تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 53 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 53

۵۳ ہنگامہ پسند تو جلسوں ہی میں باقاعدہ یہ اعلان کر رہے تھے کہ پولیس ہمارے ساتھ ہے۔اور اس بات نے فسادی بجو موں کو بہت وجمرات دلادی تھی۔خوف حکومت ہی ختم ہو گیا تھا۔پولیس عنقا ہو کہ نہ جانے کہاں جا چھپی تھی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو کرشنا نگر میں واقع ایک احمدی کے کارخانہ کو آگ لگائی گئی۔اور اب اس سے شہ پا کر فسادی ہمارے مکان کے سامنے جمع ہو کر اس تجویز پر عمل کرنے کی تجویزیں کرتے۔انہوں نے ہزار کوشش اور طریق سے تمہیں نیچے اُتارنے کی کوشش تھی۔ایسی ایسی گالیاں دی تھیں کہ ہم کسی طرح جواب دینے کو سامنے آئیں۔مگر وہ ناکام رہے تھے۔اب آگ ہی ایک صورت رہ گئی تھی اس مکان سے ہمیں باہر نکالنے کی۔۔ہم نے رات کو پولیس چوکی میں دن بھر کی روداد کی رپورٹ دے کر انتظام کے لیے کہا تو جواب ملا کوئی فکر نہ کریں۔ہم لوگ انتظام کرنے لگے ہیں۔چوک میں پولیس کی ایک پکٹ قائم کر دی جائے گی جو فسادیوں کو روکے گی۔لیکن ہم سمجھتے تھے یہ محض الفاظ ہی الفاظ ہیں ورنہ اس سیل عظیم میں پولیس سب سے پہلے بہہ گئی تھی۔دن بھر اسکا ذکا محبوس احمدیوں کو دھمکا دھمکا کر احمدیت سے پھرانے کی کوشش کی - کی گئی۔مکان جلانے کی دھمکیاں۔قتل کر دینے کی دھمکیاں۔سامان لوٹ لیتے کی دھمکیاں عزت و ناموس برباد کر دینے کی دھمکیاں۔انسان دھمکیوں سے مرعوب اس وقت نہیں ہوتا جب وہ دنیاوی تعلقات کو یکسر نظر انداز کر دے۔بھول ہی جائے کہ نہ اس کا مکان ہے نہ سامان نہ بیوی ہے نہ بیٹی۔اور اگر سمجھے ہیں تو پھر یہ خیال نہ کرے کہ عزت و ناموس بر باد کرنے اور مسکان لوٹنے جلانے کی قوتیں اور قدرتیں انسان اور خود سر بھٹکے ہوئے فسادیوں کے ہاتھ میں ہیں۔یہی ایک دھمکی نہیں تھی جو از تعداد کے لیے استعمال ہوئی بلکہ بعض جگہوں پر غلط طور پر مشہور کیا گیا کہ سب بڑے بڑے احمدی دنعوذ باللہ) ارتداد کر چکے ہیں۔اُن کے مقابل پر تمہاری پوزیشن ہی کیا ہے۔تم بھی احمدیت سے الگ ہو جاؤ۔مولوی شریف احمد صاحب امینی مبلغ کمیٹی کی ساس صاحبہ ہفتہ کو آئیں۔ڈرتے ڈرتے دروازہ کھلوایا اور کہنے لگیں میں آپ