تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 604
کی صورت میں اور دوسرا مفصل تبصرہ تیار کردہ شمس صاحب۔ہر دو جوابوں کو حضور دیکھ کر منظور فرما چکے ہیں۔حضور نے ارشادفرمایا ' اطلاع ہوئی جز اہم اللہ و السلام خاکسار مرزا بشیر احمد ۱۲/۱۰/۵۳ ارشا د حضرت مصلح موعود بقلم سیده ام متین صاحبه) میں متواتر کہ چکا ہوں۔کہ آپ وکیلوں سے اس بارے میں پوچھیے کہ چھپوایا جائے یا نہیں اگر ان کے نز دیک چھپوانے میں حرج نہ ہو۔تو عدالت کے سامنے یہ معاملہ پیش کر دیں کہ اب دوسرے لوگ چھاپ رہے ہیں تو ہم بھی چھاپنے پر مجبور ہیں۔مکتوب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیدنا هو الناصر السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته کل لاہور کے وکلاء دوست کہہ گئے تھے کہ اب جواب میں ہماری طرف سے بھی جوابات کی اشاعت ہونی چاہیئے، خصوصاً مودودی صاحب کے بیان کا جواب۔آج محترمی مرزا عبد الحق صاحب کے ساتھ بات ہوئی تو انہوں نے اس کی پر زور تائید کی کہ اب پبلک میں جواب کا انتظار ہے۔خصوصاً انہوں نے کہا کہ سات سوالوں والا مفصل جواب المصلح بھی بھی شائع ہو جانا چاہیئے۔سو اگر حضور ا جازت دیں تو کیا سات سوالوں والا جواب المصلح میں اشاعت کے لیے بھجوا دیا جائے۔یہ جواب حضور کا دیکھا ہوا بلکہ تیار کیا ہوا ہے۔البتہ جنازہ دالے سوال میں اس نوٹ کے دینے کی ضرورت ہوگی کہ امام احمدی ہونا چاہیئے۔خاکسار مرز البشیر احمد 14/10r چھپوا دیا جائے آخر امام کا جھگڑا اس وقت پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔فتویٰ تو دیا ہی نہیں گیا۔آئندہ غور کرنے کا لکھا ہے۔اس کے لئے امام کا کیا سوال ہے۔(ارشاد حضرت مصلح موعود ) بعض دیگر اہم خطوط : تحقیقاتی عدالت کے سلسلہ میں بعض دیگر اہم خطوط درج ذیل کئے جاتے ہیں۔