تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 603
آپ کا کوئی مضون بصیغہ رحیری مجھے ارسال کیا ہے۔میں نے تو جہاں تک میرا حافظہ مری راہنمائی کرتا ہے کسی فرد سے بھی بالواسطہ یا بلا وسطہ معاوضہ کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی مرے ذہن میں کبھی یہ خیال آیا ہے اس لیے جہاں تک مری ذات کا تعلق ہے یہ سوال پیدا نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ کی ستاری غیر معمولی حالات میں میرا ساتھ دیتی جارہی ہے اور اپنے فضل اور احسان سے مجھے برابر رزق دیتی جارہی ہے اگر چہ قطعاً میں اس کا مستحق نہیں دعا فرمائیں مجھ سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جو اس کی ناراضگی کا موجب ہو اور مجھے ایسے اعمال کی توفیق ملتی جائے جو اس کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنتی رہیں مرے گناہ معاف فرمائے اور انجام بخیر ہو۔امید ہے کہ میرا پہلا خط آپ کو مل چکا ہو گا۔مرے ساتھ کوئی ایسا عملہ نہیں کہ اگر الہ دو میں خط لکھوں تو نقل ہی کر سکوں اس لیے انگریزی میں لکھ دیتا ہوں۔اگر چہ کئی مرتبہ ندامت کا بھی احساس ہوتا ہے کہ اردو خط کا جواب انگریزی میں بھجوا رہا ہوں۔آپ کی کریما نہ بیعت ہے امید کرتا ہوں کہ بار خاطر نہ ہوگا۔خاکساره شیخ بشیر احمد عفی عنہ مکتوب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب هُوَ النَّاصِرُ سیدنا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل کے نوائے وقت میں مولوی مودودی کے اس بیان کی نقل چھپی ہے۔جو مودودی صاب نے جماعت احمدیہ کے خلاف عدالت میں دیا ہے۔شاید اور اخباروں میں بھی چھپے۔چونکہ مودودی کو ملمع سازی کا فن آتا ہے۔اور تحریہ عموماً واضح اور متعلقہ امور پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے بعض دوست جو جلدی میں یکطرفہ رائے کے عادی ہوتے ہیں۔وہ گھبرا جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا ازالہ ہونا چاہیے سو اس صورت میں اس بات پر غور ہونا چاہیئے کہ کیا اس کے جواب میں اپنا جواب چھاپ دیا جائے۔ہمارا جواب دو ٹکڑوں میں سے ایک حوالوں کے انکار و اقرار