تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 572
02۔در بہر حال قادیانیوں کے معاملے میں بھی دیکھا گیا ہے کہ احد یہ تحریک سے جو عداوت پائی جاتی ہے وہ بنیادی طور پر اس کے دینی عقائدہ کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس کے بعض معاشرتی پہلوؤں کی وجہ سے تھی۔احمدیہ تنظیم بڑی مضبوط اور مربوط ہے اس کے ممبران اس بلند مقصد کی خاطر پورے جوش سے اپنی جماعت کے لیے وقف ہیں۔وہ سختی سے پردہ کے پابند ہیں۔کثرت ازدواج کے حامی ہیں نہ اہدانہ اخلاقیات کے حامل ہیں اور درنیومی آسائشوں سے لطف اندورنہ ہو کر رہ جانے کو پسند نہیں کرتے۔وہ اپنے امراء سے چندہ لے کہ اپنے عزباء پر خرچ کر دیتے ہیں ان میں خواندگی کی شرح بہت اونچی ہے وہ اپنے ممبران کے لیے روزگار فراہم کرتے اور اپنی مہماجد - عدالتیں۔سکول اور یہ فاہی امرارہ سے خود چلاتے ہیں جس کے لیے وہ اپنے ممبران پر بھاری ٹیکس لگاتے ہیں۔۱۴ ء میں رہ اس علاقہ میں جو بعد میں مغربی پاکستان کہلایا۔عرب سے سے بہتر تعلیم یافتہ اسلامی گروہ سمجھے جاتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ وزارت خارجہ میں کئی اسامیوں پر تعینات کیے گئے اور نئی گورنمنٹ پاکستان کے کئی دوسرے محکموں میں بھی ان ول کی خدمات سے فائدہ اُٹھا یا گیا " یہ ایک عام خیال ہے کہ احمدی لوگ اپنے تمام ممبران کے لیے سرکاری ملازمتیں ڈھونڈ کر ان کو دلواتے ہیں اور اپنے تمام یو نیورسٹی طلبا کو وظائف دیتے اور صرف احمدی احباب کی ہی غور و پرداخت کرتے ہیں۔یقیناً یہ ایک بہت مبالغہ آمیز خیال ہے۔تاہم اس گردہ کا اندرونی طور پر مضبوط اتصال بیرونی لحاظ سے ان کے بیکار تنہا رہ جانے کا موجب بن گیا۔چنانچہ معاشرتی لحاظ سے ان کا الگ تھلگ رہ جانا اُن کے اور بانی مسلمانوں کے درمیان دشمنی کو بروئے کار لایا۔ہندو مسلم فرقہ وارانہ فسادات کی انتہائی تباہ کاریوں کے دوران گو یہ دشمنی تھوڑی دیر کے لیے دب گئی تھی لیکن ۱۹۲۶ ء میں تقسیم ملک کے بعد یہ معاشرتی عناد اتنا بڑھ گیا کہ ایک نیم سیاسی گردہ یعنی احرار نے اس عناد کو با آسانی ہوا دیگر عام دنگا فساد " میں بدل دیا اور عوام کی توجیہ کو عقائد کے محولا بالا اختلافات پر مرتکز کر دیا۔