تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 568
۵۶۶ جب بنیادی حقوق کی کمیٹی کی رپورٹ شائع ہوئی تو پاکستان کے مذہب پرست اور دوسرے متعصب مسلمان اس امر پر بڑے خوش تھے کہ انہیں اپنے ملک کی سیاسیات کے سر پر رجعت پسندی ٹھونسنے میں بڑی کامیابی ہوئی ہے اور اس امر یہ بھی کہ انہوں نے اس طرح غیر مسلموں کو اُن کے اس بنیادی حق سے کہ وہ ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے کے لیے منتخب ہو سکتے ہیں محروم کر دیا ہے۔اس طرح جرات پاکہ ان رجعت پسندوں نے جن کی راہنمائی ملاؤں کے ہاتھ میں تھی ایک یہ تحریک چلائی کہ احمدیوں کو بھی غیر مسلم قرار دے دیا جائے تاکہ وہ پاکستان کی ایک اقلیت قرار پائیں یہ تقلید پسند کلاؤں کا ایک پرانا مطالبہ ہے۔احمدیوں نے بھلا کون سا قصور کیا ہے کہ انہیں اس سزا کا مستوجب قرار دیا جائے ؟ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں سنت اور رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم) پر یقین رکھتے ہیں۔ان کا صرف یہ اعتقاد ہے کہ ہر زمانہ میں نبی ہو سکتا ہے اور وہ اس خیال کو رد کرتے ہیں کہ محمد رصلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں جو خدا تعالے نے بندوں کی راہنمائی کے لیے مبعوث کیے۔یہ میرا کام نہیں ہے کہ میں اس امر پر بحث کر دی کہ یہ اعتقاد کس حد تک درست یا غلط ہے لیکن اس بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں کہ ایک جمہوری ریاست میں ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ در ہیں چیز کوحتی اور درست سمجھتا ہے۔اس پر اعتقاد رکھے۔لیکن کامیابی کے نشہ میں محصور ملاؤں اور ان کے تشدد پسند ساتھیوں کے لیے یہ بات ختنہ پیدا کرنے کے لیے کافی مخی۔سر کے آغانہ میں احمدیوں کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کی گئی اس نے زور پکڑنا شروع کر دیا اور چند مفتوں میں ہی وہ بڑی بھیانک صورت اختیار کر گئی۔بنیادی حقوق کی کمیٹی کی رپورٹ مرتب کرتے وقت چونکہ ملاؤں کے انٹر کو قبول کر لیا گیا تھا اس لیے ناظم الہ دین کی حکومت کیلئے اس خطر ناک نظرت انگیز اور خلاف جمہورمیں بی ٹیشن کو دبانا تو الگ رہا اس کی مذمت کرنا بھی مشکل ہوگیا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض ذمہ دار لیگی لیڈروں نے تعصب کی اس آگ کو اس اصول کی بشدت تائید کر کے ہوا دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) آخری نبی ہیں اور کوئی شخص جو اس نظر کی تائید نہیں کرتا وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔حکمران