تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 564
۵۶۲ امریکہ کے بڑے بڑے شہروں کے دُنیا کے ہر حصہ میں پہنچے ہوئے ہیں۔قادیانی ایجی ٹیشن ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو استعمال کر کے پاکستانی آبادی کے ایک کثیر حصے کو بھڑ کا یا جا سکتا ہے اور گذشتہ چند ایام میں مظاہر سے کچھ بامن اور کچھ خوزیز ) مغربی پاکستان کے تمام شہروں میں ہوئے ہیں۔مگر مشرقی پاکستان میں بہت کم احمدی ہیں۔(لا ہور کا دارالحکومت احراری مشغلہ کی درجہ بدرجہ مختلف کی جانیوالی توجیہات سے پر ہے جن میں سے ایک نہایت ہی پر اسرار توجیہہ وہ سوشلسٹ و عومی ہے جو امریکہ اس بناء پہ کہ سر محمد ظفر اللہ خان خفیہ طور بر طانوی اثر در مورخ کے حامل شخص ہیں پوشیدہ طور پر ان کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔تاہم اکثر آراء اس بات پر متفق ہیں۔کہ کمیونسٹوں کو چوہدری ظفر اللہ کے مٹانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔اور نہ ہی قادیانیوں کو داغدا رکرنے سے اُن کو کچھ فائدہ ہوگا۔یہ فرقہ جدو جہد کرنے والا۔ترقی پسند گروہ ہے۔جو بین الاقوامی تعلقات رکھتا ہے۔اور قادیانیوں کی اس ملک میں ایذا دہی اور روس میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم کے درمیاں قومی مشابت بتائی جاتی ہے۔عالمی لٹریچر میں احمدیت کا ذکر ۱۹۵۳ء میں جماعت احمدیہ کو اس درجہ نمایاں حیثیت حاصل ہو گئی کہ مشرقی و عربی دنیا کے مفکرین ، مورخین اور اہل قلم شخصیتوں نے اس دور کے حوالہ سے تحریک احمدیت کا خصوصی ذکر کیا اور یہ ایک ایسی غیر معمولی بات تھی کہ اگر احمدی لاکھوں روپے بھی خرچ کرتے تو حاصل نہ ہو سکتی۔اس ضمن میں چند ستحریرات کا ذکر کافی ہوگا۔ا۔بھارت کے ممتاز کشمیری مورخ جناب پریم ناتھ برانڈ نے اپنی کتاب رکشمیر میں جد جہد آزادی “Struggle for freedom in Kashmir” میں احراری تحریک کا ذکرہ بایں الفاظ کیا۔