تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 563
041۔پنجاب کا دارالسلطنت اور مغربی پاکستان کا سب سے زیادہ گنجان آباد صوبہ ہے۔یہ مارشل لاء عام سلسلۂ قتل و غارت، لوٹ مار، ڈاک خانوں اور دکانوں کی لوٹ کھسوٹ آتش زنی اور مواصلات کے درہم برہم ہونے پر لگایا گیا۔احرار کے لیڈر طلایعنی دینی پیشوا ہیں۔پاکستان کو انڈیا سے اس لیے الگ کیا گیا کہ اس کے باشندے اور مہاجرین ایک جداگانہ مذہب یعنی اسلام کے پیرو کار تھے۔اور کلی لوگ لیے عرصہ سے گورنمنٹ کی انتظامیہ میں دخیل ہونے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔انہوں نے غالب مسلم لیگ کی گورنمنٹ کے لیڈروں کی مغرب نوانہ طرفہ حکومت اور مذہبی رواداری کی ہمیشہ سے مخالفت کی ہے جو ہر دلعزیز مسلم لیگ پارٹی کے لیڈروں نے شروع سے اپنائی ہے گورنمنٹ کو شکست دینے کے لیے بطور ایک چھڑی کے انہوں نے لیے عرصہ سے قائم پہلے آتے مسئلہ احمدی نزاع کا کھڑا کر لیا ہے۔احمد می جن کو قادیانی بھی کہا جاتا ہے ان کو قدامت پسند مسلمانوں کے منہ سے مرتد کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہمارا بانی جس کو فوت ہوئے ۴۰ برس بیت چکے ہیں " ایک سچا نبی ہے"۔قدامت پسند مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی تھے احرار کا مطالبہ ہے کہ گورنمنٹ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دے۔اور ان کو جدا گانہ انتخابی فہرست پیر ڈال دے ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ سرمحمد ظفراللہ خان جو کہ وزیر خارجہ پاکستان اور اس ملک کے سب سے بڑے نمائندہ یا وکیل دنیا کے اکھاڑہ میں ہیں احرار نے الزام لگا یا کہ چوپی محمد ظفر اللہ نے قادیانیوں کو سرکاری ملازمتیں دلانے کی سر پرستی کی ہے۔قادیانی پاکستان میں ایک مختصر گروہ ہیں جن کی تعداد چند لاکھ ہوگی مگر دوسری مذہبی اقلیتوں کی طرح وہ باہم گہرے طور پر متحد ہیں۔وہ کاروبار میں کامیاب اور متمول ہیں۔اخباروں ، زمینوں اور تجارت کے مالک ہیں۔اس لیے کم خوش قسمت لوگوں کے اندر ان کی رقابت پیدا ہوئی خصوصا آج کل جبکہ معاشی دباؤ کا سامنا ہے پھر اس امر کا مزید غصہ بھی ہے کہ قادیانی صرف اکیلے ہی تمام مسلمانوں کے فرقوں میں سے ایک مستعد تبلیغی گروپ اور دوسروں کا مذہب تبدیل کروانے کا شغف رکھتے ہیں اور یہ لوگ ہر ممکن ذریعہ سے اپنے مذہب کو پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔نیا مذہب تبدیل کرنے والوں کی تلاش میں قادیانی مبلغ مشمول