تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 539 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 539

۵۳۷ ہر قابل ذکر اور اہم محکمے ہیں، ان کے ممتاز افراد گھے اور انہوں نے اپنے اپنے دائرہ کار کے اور میں قادیانی کارکنوں کی ٹیمیں جمع کر لیں۔صدر ہاؤس اور وزارت عظمیٰ کے ایوان ہی میں نہیں ، ان بڑے عہدہ داروں کے نجی عملے تک میں قادیانیوں کو موثر قوت بننے کا موقعہ میسر آیا۔ملک کی معیشت پر قادیانیوں کو فیصلہ کن پوزیشن حاصل ہوئی اور اس سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے اپنی جماعت کے بیشمار افراد کو مالا مال کر دیا۔ملک کے اہم ترین مناصب پر فائز ہونے کے بعد، قادیانیوں نے بیرون ملکوں، بالخصوص بڑی طاقتوں سے اپنے روابط مستحکم کیسے اور بیشتر ممالک میں انہوں نے انتہائی منظم طریقے پر یہ پرو پیگنڈہ کیا کہ پاکستان کی حکومت ، قادیانی پالیسی کو اپنائے ہوئے ہے۔سر ظفر اللہ سے ایم ایم احمد اور عبد السلام تک، بڑے قادیانیوں نے وزارت خارجہ اور دنیا بھر کے پاکستانی سفارت خانوں کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ان سفارت خانوں کے ذریعہ، دنیا کے بیشتر ممالک میں۔۔- سرکاری دسائل واثر در سوخ کو قادیانیت کی تبلیغ واشاعت کیلئے بے محابا استعمال کیا گیا۔تادیبانی اکابر نے ملک کے تمام مناصب کو اپنے عقائد کی تبلیغ ، اپنے سیاسی مشن کی تکمیل اور مسلمانوں کے خلاف یہود اور دوسرے سامراجی عناصر کی سازشوں کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔ایک اہم تر مقصد قادیانیوں کے سامنے یہ تھا کہ سفارتی مناصب کو ا تمام ملکوں سے براہ راست روابط کا ذریعہ بنایا جائے اور انہیں اس میں اس حد تک کامیابی ہوئی کہ وہ نہ صرف یہ کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں، پاکستان کے نمائندوں کی حیثیت سے معروف ہوئے ، بلکہ وہ پاکستان کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ اسلام کی نمائندگی و تر جمانی کے منصب پر فائزہ بھی سمجھے جانے لگے اور ان کے عمل اورہ پر دیگنڈے سے یہ تاثر عام ہوگیا کہ اس وقت دنیا میں صرف قادیانی ہی تبلیغ واشاعت اسلام ، کا علم تھامے ہوئے ہیں۔