تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 530
۵۲۸ عقیقہ کے نام پر ملک میں فتنہ وفساد کی آگ بھڑ کہ میں جب یہ آگ بھڑ کی تو خود ممتاز دولتانہ میل مجھے ان کا شاندار سیاسی مستقبل به باد ہو گیا وہ آج بھی زندہ ہیں مگر اس حال میں کہ جسے ایوان شہی کے اندر ہونا چاہیئے تھا آج وہ اس کے دروازے پر پیٹی باندھے کھڑا ہے خدا ہی بہتر جانتا ہے ان کا انجام کیا ہو گا لے به هفت روزه آثار (۲۴ تا ۳۰ سجون ۱۹۷۴ ۶ صت مولا نا اختر علی خاں صاحب (خلف مولانا ظفر علی صاحب) ایڈیٹر زمیندار کی نسبت لکھا: - مرحوم روز نامہ زمیندار کے مالک تھے انہوں نے ختم نبوت کے نام پر حکومت سے بھی لاکھوں روپے لیے اور عمرام سے بھی ڈھیروں روپے چندہ وصول کیا۔انہوں نے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے ختم نبوت کے نام پر ایک ایک روپے کے نوٹ چھاپ لیے تھے۔جنہیں لوگوں کو دے کر ان سے اصلی نوٹ بطور چندہ لیے جاتے تھے۔جس زمانہ میں انہوں نے ختم نبوت کے عقیدے کو روپیہ کمانے کا ذریعہ بنایا وہ میکلوڈ روڈ پر ایک عالیشان بلڈنگ کے مالک تھے ان کے پاس دو تین کاریں بھی تھیں۔اور زمیندار بھی اچھا خاصا چل رہا تھا گر یونہی انہوں نے ختم نبوت کے نام پہ مر میہ خوردبرد کیا بہت ہی تھوڑے ہے کیا عرصہ کے اندر نہ ان کی بلڈنگ رہی ، نہ اخبار رہا اور نہ وہ خود رہے ان کی بلڈ نگ پک کر ایک ہوٹل بن گئی۔زمین را صفحہ ہستی سے یوں محو ہوا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔اور مولانا اختر علی گمنامی کی حالت میں اس طرح مرے کہ کرم آباد میں ان کا جنازہ پڑھنے کے لیے بھی نہیں نہیں آدمی میسر نہ آئے :۔ہفت روزہ چٹان لاہور نے ۱۳ جولائی ۱۹۶۲ء (ص) (۵) کی اشاعت میں اخبار زمیندار کی نیلام شدہ بلڈنگ کا فوٹو شائع کیا اور اس کے نیچے ایک عبرت انگیز نوٹ لکھا جو یہ ہے: کا یہ کبھی روز نامہ زمیندار کا دفتر تھا ر یہاں وہ شخص رہتا تھا جس نے ربع صدی تک برطانوی سامراج کومل کارا۔ہماری آزادی ے ہفت روزه آثار ۲۴ تا ۳۰ جون ۱۹۷۴ء صفحه ۸