تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 524
۵۲۲ اس بیرونی بلغازہ کے علاوہ جماعت اسلامی کی صفوں میں زبر دست انتشار پیدا ہو گیا اور کئی عمائدین مثلاً مولانا امین احسن صاحب اصلاحی محمد امیر جماعت اسلامی ملک سعید صاحب (ایڈیٹر تسنیم و امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب) عبد الغفار صاحب اور مولانا عبد الرحیم اشرف مدير المنبر نے علیحدگی اختیار کر لی۔الا مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنے سولہ سالہ تجربہ و مشاہدہ کی بناء پر لکھا : جماعت اسلامی کے متعلق تو ہماری ایماندارانہ رائے یہ ہے کہ اس وقت اسلام کے لیے اس ملک میں اس سے زیادہ مصر جماعت کوئی نہیں۔متحدہ محاذ کی اسلام دشمن جماعتیں اسلام کی مخالفت بے دلیل کریں گی اور جماعت اسلامی کے امیر صاحب اور ان کے اتباع ان کے لیے اپنی نرالی فقاہت سے شرعی دلیلیں ایجاد کریں گے۔دین اور عقل دونوں سے بعید تر جماعت اس ملک میں اگر کوئی ہے تو جماعت اسلامی ہے یہ جماعت اب صحیح فکر اور صحیح عمل کی توفیق سے محروم ہو چکی ہے اس کی ہر بات الٹی ہوتی ہے اور جو قدم بھی یہ اٹھاتی ہے اس سے اپنی بے راہ روی اور ضلالت کا ثبوت مہیتا کرتی ہے اسے سعید ملک صاحب ایڈیٹر تسنیم نے اپنے بیان میں کہا :- ہ جماعتی لٹریچر میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ اسلامی تحریک کو چلانے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ مخاطب آبادی میں اسلام کے اصولوں کا شعور اور ان پر پلنے کا شدید داعیہ پیدا کر دیا جائے تا آنکہ ایک مرحلے پر پہنچ کردہ آبادی فطری طور پر اسلام کو ایک نظام زندگی کی حیثیت سے اپنا ہے۔یہ بات کھل کہ کہہ دی گئی تھی کہ یہ کام محض سیاسی ہنگاموں سے ہوگا اور نہ صرفت انتخابات کے ذریعے حصول اقتدار کی کوششوں سے۔لیکن ابھی قوم میں اسلامی اصولوں کا ابتدائی تصویر بھی پیدا نہ ہوا تھا اور اس نے اسلامی اصول اخلاق اور سیاست کو اختیار کرنے پرمعمولی سی آمادگی کا اظہار بھی نہ کیا تھا کہ آپ نے بنیادی کام سے صرف نظر کر کے تحریک کو پوری انتخابی کالج کے لیے لمحہ فکریہ راز مولانا امین احسن اصلاحی صہ مٹہ مث طبوعہ آفتاب عالم پر لیس لاہور