تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 43
برداشت کرنے کی توفیق بخشی۔اور ہم بفضل خدا احمدیت پر قائم رہے۔الحمد للہ مکان اور دکان پر خشت باری کی جاتی رہی۔میری دکان کی کئی دن تک بند رہی اور ہم اپنے مکان میں مجبوس رہے۔بعض عورتوں نے ہمارے مکان پر آکر ہماری عورتوں کو احمدیت سے تائب ہونے کی تلقین کی مگر انہوں نے کہا کہ تم ایسا کرنے کے لیے ہر گز تیار نہیں ہیں۔مرنا تو ایک ہی دفعہ ہے یا مکرم میاں محمد الدین صاحب بوٹ میکر کا بیان ہے کہ : ہ میری دکان دروازہ ٹھاکر سنگھ کے اندر احراریوں کے گڑھ میں واقع ہے۔میری دکان پر اکثر احراری آتے رہتے۔مجھے تبلیغ کرتے۔میرے جوابات کا جواب نہ پا کر مجھے احمدیت سے تائب ہونے کو کہتے اور میں نہ چلتا تو میرا سودا خراب کرتے۔دوسروں کو مجھ سے سودا خریدنے سے منع کرتے۔جب پھر بھی میں اُن کا کہنا نہ مانتانب مارنے کی دھمکیاں دیتے۔بعض اوقات چھڑے دکھاتے اور کہتے یہ تیرے لیے ہی بنوا رکھے ہیں۔جب میں نے اس کی بھی پیپر واہ نہ کی تب میری دکان کے تالوں پر پاخانہ لگا جاتے (اور کافی عرصہ تک روزانہ لگاتے رہے) جو بازار کا بھنگی بھی صاف نہ کرتا اور آخر کار میں خود ہی صاف کیا کرتا پھر مجھے سخت مارتے بھی رہے حتی کہ میرا منہ اور چھاتی کئی دن تک سوجی رہی اور بعض چوٹوں کا مجھ پر ابھی تک اثر ہے۔میری بیوی ہر روز سہمی رہتی کہ نہ جانے آج میرے خاوند کا کیا بنتا ہے۔ایک دن میرے بچے مبشر احمد رجس کی عمر ۷ / ۸ سال کی تھی) کو اُٹھا کر لے گئے اور کہنے لگے کہ احمدیت سے تائب ہو جاؤ ورنہ ہم اس کو مار ڈالیں گے۔میرا بچہ میرے سامنے ہوتا رہا۔لیکن میں نے صبر کیا اور احمدیت کو نہ چھوڑا۔ان تمام واقعات کی حکومت کے ذمہ دار افسران کو اطلاع دی جاتی رہی لیکن افسران نے کچھ بھی نہ کیا۔سوائے اس مشورہ کے کہ میں دکان چھوڑ جاؤں لیکن میں نے دکان نہ چھوڑی۔دورانِ تحریک میں ایک دن دہ میرے گھر گئے اور بتایا کہ تمہاری جماعت کے تمام بڑے بڑے افراد احمدیت کو چھوڑ چکے ہیں۔تم بھی چھوڑ دو لیکن میں نے ایسا نہ کیا بلکہ احرار کے دفتر میں چلا گیا اور اُن سے بعض مسائل پر گفتگو کی لیکن اُن پر کسی بات کا اثر نہ ہوا۔میرے بچہ کو سکول میں مارا بھی گیا لیکن اس نے صبر A