تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 511
۵۰۹ اور سیکرٹری مجلس عمل داود غزنوی منتخب ہوئے۔دیو بندی چندہ خوری کے لیے از خود منتخب ہو گئے حضور خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ اور مطالبات مذکورہ سے تمام فرقوں کے علماء کو اتفاق تھا۔مگر ایجی ٹیشن یعنی سول نافرمانی کر کے جیلوں میں جانے کے مسئلہ میں دیوبندی در شنی اور غیر مقلد ہر فرقہ کے اکثر علماء کو اس کے شرعی جوانہ میں اختلاف تھا اور وہ کافر کی بیخ کنی کے لیے اپنے آپ کو محبوس کرانے کو وہ تلقوا بايديكم الى التهلكة کا مصداق قرار دیتے تھے۔جیسا کہ افاضات الیومیہ میں مولوی اشرف علی تھانوی بھی اسے حرام قرار دے چکے تھے۔اس لیے رضا کار تحریک میں امید سے بہت کم لوگ شریک ہوئے مگر مارچ ۱۹۵۳ء کو تحریک شروع ہو گئی سب سے اول ریئمیں اہل سنتہ حضرت مولانا صاجزادہ رضا کار ے کہ کراچی روانہ ہوئے۔اور گرفتار کر لیے گئے۔بعدہ اکثر شہروں سے رضا کار مظاہرے کرتے اور روانہ ہوتے رہے اور راستوں میں گرفتار کر لیے جاتے رہے۔پھر یکے بعد دیگرے مولانا ابو الحسنات مولوی عطاء اللہ شاہ ، مولوی محمد علی جالندھری کو گر فتار کر کے بمعہ صاحب زادہ صاحب مدظلہ سب کو سکھر جیل میں محبوس کر دیا گیا۔قاضی احسان احمد شجاع آبادی گرفتاری سے بچنے کے لیے پہلے شجاع آباد سے بھاگ کہ کہیں روپوش ہو گئے۔مبینہ طور پر سب سے پہلے مولوی محمد علی جالندھری جیل میں بدل گئے اور حکومت سے عرض معرد من کر کے پیرول پر بالفاظ دیگر تحریک سے معانی ہو کہ جیل سے نکل گئے تحریک کمزور پڑ گئی ، نئے رضا کاروں کا سلسلہ بند ہو گیا اور محبوس رضا کاروں نے حکومت سے مایوس ہو کر مختلف ذرائع سے جیلوں سے باہر آنا شروع کر دیا مگہ رضا کاروں کے اس انفرادی تقدم و تاخر سے مطالبات کی قائمی پر کوئی الہ نہ پڑا۔اور عوام کی نظریں مرکز کے قائدین پر مرکوز و حوصلے پختہ اور مولانا ابولحسنات مرحوم و صاحب زادہ صاحب ابھی سکھر جیل میں عزم صمیم لیے مطالبات پر قائم تھے کہ دیوبندی مولو اجرت عطاء اللہ شاہ بخاری محمد علی جالندھری داؤد غزنوی نے۔امئی 90 مطابق ۲۵ شعبان ۱۳۴ھ کو تحریک سے مکمل استعفا کا اعلان کر کے تمام تحریک اور مطالبات کا خاتمہ کر دیا۔ان کا یہ عجیب و غریب اور بے سر و پا بیان جنگ کراچی میں شائع ہوا۔مولوی داؤد کے بیان کے چند الفاظ یہ ہیں۔