تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 510 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 510

لگتے کہ اب راہ نجات کیا ہے اور پھر راہ نجات صرف معافی ناموں کے بل پر کھلتی نظر آتی تو جو کچھ کوئی لکھواتا لکھ کر پیش کر دیتے۔ایک طرف گولیاں کھانے کے لیے شجاعت کا اظہار تھا تو دوسری طرف رخساروں سے ڈھلکتے ہوئے آنسو تھے اور لبوں سے اٹھنے والی آہیں تھیں۔جلوسوں میں ناموس رسول کے پر دانے جس شان سے آگے بڑھتے تھے اس کا سارا مجرم بھیل کے اندر جا کر کھل جاتا۔جب اُن کے سیرت وکردار کے گوشے بے نقاب ہونے لگتے۔ابتدائے عشق کے مرحلوں میں دنیا کی دنیا ساتھ ہوتی۔لیکن جب فوجی عدالتوں کی طرف سے سینکڑوں افراد کو لمبی لمبی مزائے قید دے دی گئی تو آگے کے ان مشکل مقامات میں ان کا اور ان کے بیوی بچوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔یہاں پہنچ کر نوبت یہ آجاتی کہ جن ہستیوں کے لیے زندہ باد کے نعرے لگاتے لگاتے گلے سوکھ جاتے ، ان کے لیے موٹی موٹی گالیاں گونجتی سنائی دیتیں۔تحریک اسلام کے ایک بنیادی عقیدے کے تحفظ کے لیے اٹھائی گئی تھی۔مگر اس کے دوران میں آتشزنی اور لوٹ مار کا وہ ہنگامہ اہل پڑا کہ جس پر جتنا افسوس بھی کیا جائے کم ہے۔شہر شہر میں ہمیش بہار میں چندہ کے طور پر جمع کی گئی تھیں لیکن رسید پرچھے اور حساب کتاب کا سلسلہ ہی سرے سے نہ تھا۔چنانچہ جس کے ہاتھ جو کچھ آگیا غائب ہو گیا۔آج نہ کوئی حساب مانگنے والا ہے نہ جانے والا۔ان واقعات نے تحریک کو بدنام کیا۔مقصد کو بدنام کیا۔دین کو بدنام کیا۔ان واقعات نے پاکستان کے دینی عناصر کی قوت گھتائی ہے اور ملحد عناصر کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں۔بلکہ بیچ میں تو خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ خود اسلامی دستور کے لیے جو جد و جہد نا بہت اہم مراحل میں داخل ہو چکی ہے اُسے بھی سخت نقصان پہنچے گاٹ نے ممتاز سنی عالم دین مولانا غلام مہر علی صاحب گولڑوی نے اپنی کتاب " دیوبندی مذہب ہیں حب احراری علماء اور ان کے ادعائے تحفظ ختم نبوت پر زبردست تنقید کی چنانچہ لکھا:- ایک مجلس عمل بنی۔صدر مولانا ابوالحنات مرحوم اور صدر رضا کاران حضرت قبر ماجرا دیا ه چراغ راه " کراچی مارچ سواء مشار(۱۹)