تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 42
جاتے اور کبھی شور مچاتے مکانوں کے سامنے آجاتے اور دروازے اور کھڑکیاں بڑے زور سے کھٹکھٹانے لگتے۔گندی اور فحش گالیاں دیتے۔یہ حالت تقریباً پون گھنٹہ رہی۔بعد میں محلہ میں بسنے والے شریف لوگوں نے بیچ میں پڑ کر اُن کو ہم سے دُور کیا اور کہا یہ طریق کار شریفانہ نہیں۔ان کے مجبور کرنے پر ہجوم چلا گیا۔متذکرہ بالا وقوعہ کے بعد بھی وقتاً فوقتاً ہمارے دروازوں کو بیٹا جاتا رہا اور گندی اور بخش گالیاں دی جاتی رہیں۔چنانچہ ایک رات ہمارے صدر دروازے پر آویزاں لیٹر بکس بالکل توڑ پھوڑ دیا اور ایڈریس کے بورڈ کو اتار لیا گیا سب سے آخر میں مارچ کی ، تاریخ کو رات کے قریباً پونے دس بجے ہمارے رمولی بخش مکان پر پٹرول چھڑک کر باہر سے آگ لگا دی گئی۔لیکن اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہمیں (محمد حسین) فورا پتہ چل گیا اور آگ پر قابو پالیاگیا۔چونکہ یہ کام نہایت سرعت سے اور ہم سب نے مل کر کیا اس لیے کسی قسم کا جانی اور مالی نقصان نہیں ہونے پایا۔ثم الحمد اللہ۔آگ کی خبر سامنے ایک ہمسایہ کے ذریعہ سارے محلہ میں پہنچ گئی اور محلہ کے سرکردہ اشخاص شیخ برکت علی شیخ عاشق حسین اور میاں عبد الحمید صاحب نے تھانہ میں رپورٹ کر دی۔تھانہ سے بروقت ذمہ دار حکام تشریف لائے اور انہوں نے موقع پر آگ لگنے کی جگہ کو دیکھا، اور جائزہ لیا اورتسلیم کیا کہ آگ پڑول سے لگائی گئی ہے۔آگ لگانے والوں نے ہمارے مکانوں کے دردازوں کو باہر سے کنڈیاں لگاکر بند کر دیا۔تاہم جلد باہر نہ نکل سکیں۔لیکن خوش قسمتی سے ایک دروازہ کی کنڈی کھلی رہ گئی۔اس کے ذریعہ ہم جلد مکان سے نکل آئے۔الخ کے تکریم معراج دین صاحب پنساری کا بیان ہے :۔" میری دکان پر آکر لوگ گالیاں دیتے۔آس پاس کی دکانوں پہ آدمی بٹھا کر ہماری دکان سے سودا نہ لینے کی تلقین کی جاتی۔بکے ہوئے سودے واپس کرائے جاتے۔باقاعدہ پکٹنگ کی جاتی۔احمدیت سے تائب ہونے کی دھمکیاں دی گئیں۔بصورت دیگر قتل کرنے وکان لوٹنے اور آگ لگانے کی دھمکیاں دی گئیں۔بلکہ بعض دفعہ چھڑے بھی دکھائے جاتے۔میرا والد میر اسخنت مخالف تھا۔اور مجھے تکالیف پہنچانے میں اس نے بھی کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی حتی کہ میرے قتل کی بھی کوشش کی لیکن خدا تعالیٰ نے ہمیں ان تمام مصائب