تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 509 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 509

ایجی ٹیشن کے اصل محرک اور بانی مبانی احراری زعماء تھے۔جناب نعیم صدیقی صادر نے اُن کے ریخ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا :- بد قسمتی سے اس مسئلے کو گزشتہ کئی سال سے ایسے عناصرے کے چل رہے تھے جو ایک طرف اپنے سیاسی کردار کے لحاظ سے تعلیم یافتہ حلقوں میں کبھی وقار نہیں پا سکے۔پھر ان کی ذہنی سطح ایسی تھی کہ وہ اس مسئلہ کی توضیح کے لیے ٹھوس اوله استدلال کرنے میں ناکام رہے۔مزید بر آرہے مصیبت یہ بھی کہ ان کی زبان اور ان کا انداز بیان بسا اوقات رکاکت اور اقتبندال تمسخر اور استہزا کے مد کو چھو جانے کی وجہ سے کبھی اپنیل نہیں کر سکا۔یہ عناصر اس کو سمجھ حال تک پہنچانے کے لیے اس سے کھیلتے پہلے آئے ہیں۔لیکن اس سے مسئلہ کی اہمیت، نزاکت اور سنجیدگی کی نفی نہیں ہو جاتی۔ایک کیس کو پیش کرنے میں ایک وکیل اگر تا کام رہا ہے تو ضروری نہیں خود کیسی ہی کو بے جان اور بے وزن سمجھا جانے لگے۔مزید مشکل یہ کہ یہ عناصر مسئلہ کے حل کے لیے عوام کو تربیت دے دے کہ اور منظم کر کر کے کوئی منصوبہ بند دستوری جد و جہد کرنے کی صلاحیتوں سے خالی تھے۔اور ان کا طریقہ صرفت اندھا جوش و خروش پھیلا دیتا رہا ہے۔چنانچہ اللہ سے برابر آتشیں تقاریر کے ذریعہ عوام کو جذباتی تحریک دلا رہے تھے۔اس خطرے کو دیکھ کہ ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ عوام کے جذبات کو دستوری جدو جہد کی رودگاہ میں سنبھالا جا سکے لیکن ہماری اصلاحی کوششوں کے علی الرغم طوفان پھوٹ پڑا۔اور اس کی لہریں اس طرح امڈ پڑیں کہ خود اس طوفان کے بپا کرنے والوں کے قابو سے بھی باہر ہو گئیں۔جو سشیلی تقریروں میں جو کچھ پیش آتا ہے وہ سب کچھ یہاں بھی پیش آیا۔ایک تو یہ کہ جب عوام جذبات کی لہروں میں بہنے لگے تو ان کو سہارا دینے والا کوئی نہ تھا۔وہ رہنمائی کے لیے ادھر اُدھر دیکھتے تھے لیکن رہنمائی کے لیے کوئی نظم سرے سے تھا ہی نہیں۔تحریک کے مجاہدین جو ہار پہنے نعرے لگاتے جیل جانے کے لیے بے چین نظر آتے تھے وہ جیل پہنچنے کے فوراً ہی بعد گھبرا گھبرا کر دریافت کرنے له نقل مطابق اصلی