تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 508 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 508

۵۰۶ ایجی ٹیشن میں حصہ لینے والے راولپنڈی کے ایک عالم دین اور شیخ القرآن" کے ایک مکتوب کا عکس شائع کیا جو وزیر اعظم فیروز خان نون اور آئی جی سے رہائی کی سفارش کے لیے تھا۔شامی صاحب نے اس خط پر یہ تبصرہ کیا کہ :۔ر یہ مولانا صاحب تحریک ختم نبوت کے زمانے میں قید ہوئے اور قید کے دوران۔۔۔۔۔یہ خط تحریر کیا۔اس خط کو پڑھیے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آجکل منبر رسول پر بیٹھنے والے بعض حضرات کے دل دین کی محبت سے کس قدر خالی ہیں اور انہیں اپنے کاروبار کا کتنا خوف لاحق ہے۔منبر پر کھڑے ہو کر ختم نبوت کے لیے جان دینے کے دعوی دار جیل میں پہنچے تو سارا دعویٰ علم و فضل دھرے کا دھرا رہ گیا یا شه جیل خانوں میں ان لوگوں پر کیا بیتی؟ اس سلسلہ میں جامعہ اشرفیہ کے صدر مدرس جناب مولوی محمد ادریس صاحب کاندھلوی نے تحقیقاتی عدالت میں یہ بیان دیا کہ :۔ر ڈپٹی کمشنر مسلح پولیس کی گارد کے معیت میں جیل آئے۔اس وقت علماء اور دوسر ممتاز اصحاب بیرکوں میں نظر بند تھے۔ڈپٹی کمشنر نے انہیں بیرکوں سے باہر نکالا اور انہیں پانچ پانچ کے گروپ میں کو کھڑیوں میں بند کر دیا۔۔۔۔۔ان کو ٹھڑیوں میں علماء اور دوسرے ممتانہ اصحاب کو بری طرح پیٹا گیا ہے شورش کا شمیری صاحب مدیرہ چٹان " لاہور لکھتے ہیں :۔انگریزوں کے زمانہ میں لاہور کا شاہی قلعہ سیاسی اسیروں کے خلاف استعمال ہوتا تھا۔اس تحریک میں بھی کئی علماء کو گرفتار کر کے قلعہ میں لے جایا گیا وہاں۔۔۔۔۔۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس۔۔۔۔۔۔نے ان علماء کے خلاف اس قسم کی واہیات زبان استعمال کی کہ ایک شریف آدمی تخلیہ میں بھی اس کا تصور نہیں کر سکتا الخ اسے کے رسالہ زندگی، لاہور ، ہر جولائی ، ۱۹ ء صفحہ ۲۰٫۲۹ سے اخبار ڈالئے وقت نہ کر اکتوبر ۱۹۵۳ء مت کا م ۳ " ۱۹۷۰ء کالم ه سید عطاء اله شاه بخاری ص ۲۳ طبع دوم نویر ۱۹۷۳ از ناشر کته بیان مہر میکلو ڈروڈ لاہور انوٹ) اس اقتباس کے اگلے فقرے عمدا چھوڑ دیئے گئے ہیں کیونکہ تاریخ احمدیت کے پاکیزہ اوراق اسے نقل کرنے کی اجازت نہیں دیتے)