تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 507 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 507

۵۰۵ پولیس قادیانیوں کے خلاف حالیہ ایجی ٹیشن کے سلسلہ میں مولانا نیازی کی تلاش میں تھی انہوں نے اس نرمی سے کہ انہیں کوئی پہچان نہ سکے والا ھی اور مونچھیں صاف کرا دی تھیں۔یا در ہے کہ پنجاب کے حالیہ واقعات سے مولانا نیازی کو گہرا تعلق ہے وہ اپنے حامیوں کو بے سہارا چھوڑ کر مسجد وزیر خان سے بھاگ گئے تھے۔اس کے بعد وہ اِدھر اُدھر پھرتے رہے اور آج گرفتار کر لیے گئے۔گرفتاری کے وقت وہ ایک مکان میں سورہے تھے یا پھر جو قائدین ، میلیانوں میں گئے انہوں نے وہاں جس طرز عمل یا اخلاق کا مظاہرہ کیا اس سے اُن کے عقیدت مندوں کو سخت ٹھیس پہنچی چنانچہ " ابن انشاء اپنے ایک مقالہ میں رقم طرانہ ہیں :۔اور ہمارے ایک دوست بیان کرتے ہیں کہ جب میں جیل میں تھا تو بہت سے لوگ ختم نبوت کی تحریک کے سلسلہ میں جیل میں آگئے۔ان میں کچھ بڑے ناموں والے مولوی بھی تھے۔میں ان دنوں قرآن اور عربی زبان پڑھا کرتا تھا ایک روز ایک آیت کے معنوں میں اٹکا تو ایک لیڈر مولوی سے پوچھا کہ مولانا ذرار مہنمائی فرمائیے بہت دیر تک بیٹھے قرآن شریف کے اس صفحہ کو تکتے رہتے آخر کہنے لگے درمیاں سچی بات یہ ہے کہ مجھے تو معلوم نہیں ہے کسی اورست پو چھوا تبھی تو میر کیش کے سامنے اکثر کی مسجد ہوئی۔ان لیڈروں کے علاوہ جو کارکن اس تحریک کے سلسلے میں آئے تھے بہت مخلص اور نیک تھے۔ان میں سے ایک خدا کا بندہ جو لاہورہ کا پہلوان ہے ایک روز ان دوست کے پاس آیا اور بولا شاہ جی میرے جی میں آتی ہے کہ ان لیڈروں کو چھرا مار دوں۔میں نے کہا ارے یہ کیا کہ رہے ہو ؟ بولا یہاں پاس آکر ان کی حقیقت معلوم ہوئی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اور جلد رہائی کے لیے یا اونچی کلاس کے لیے لڑتے ہیں کبھی یہ توفیق نہ ہوئی کہ ہم لوگوں کا حال احوال ہی پوچھ لیں کہ میاں تم لوگوں کو کھانے کو ٹھیک ملتا ہے پہلے پاکستان کے صحافی مجیب الرحمن صاحب شامی نے رسالہ ہفت روزہ زندگی میں ۱۹۵۳ء کی سے جنگ کراچی دار نومبر ۱۹۶۷ء سجواله الفرقان ربوه فروری ۱۹۶۸ ۶ ص۴۶