تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 41 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 41

عبد اللطیف صاحب آفت گوجر انوالہ نے بیان دیا کہ :- کمترین کے مکان پر جب جلوس آیا تو ہم گھر پر موجود تھے۔اہل جلوس خشت باری کر کے چلے گئے۔دوسرے روز جلوس پھر آیا مگر اس وقت ہم گھر میں موجود نہ تھے۔صرف عورتیں تھیں اور اندر سے تالا لگا ہوا تھا۔جس وقت جلوس ہمارے گھر کے نزدیک آیا اُن کے ہاسھتوں میں لوہے کے سریا تھے۔انہوں نے ہمارے گھر کا دروازہ توڑا۔پھر بیٹھک کا توڑا۔اسکے بعد میٹر توڑا۔پھر بجلی کی تاریں کاٹ ڈالیں اور لوٹ مار شروع کر دی۔اس وقت جو حالت عورتوں کی بھی وہ خدا ہی جانتا ہے۔میرے پاس کارخانہ میں ایک لڑکے نے آگر اطلاع دی کہ تمہارے گھر کا دروازہ توڑ دیا گیا ہے۔میں وہیں سے سیدھا پولیس چو کی گھنٹہ گھر گیا اور وہاں اطلاع دی۔چو ہدری اسمعیل تھانیدار ملک صاحب سے ٹیلیفون کر رہے تھے کہ اسلام آبادمیں جو مرزائی تھے وہ مسلمان ہو گئے ہیں۔باقی تھوڑی سی کسر ہے۔جب ٹیلیفون کر چکے تو میں نے دروازہ کھولا اور اُن سے عرض کیا کہ میرا دروازہ توڑ دیا گیا ہے۔مجھے اندیشہ ہے کہ شائد میرے بال بچہ کھر مار نہ دیں۔پہلے کچھ انتظار کریں۔انہوں نے کہا میں کیا کر سکتا ہوں۔اتنے جلوس کے آگے میری کیا پیش جاتی ہے۔تب میں نے کہا اگر کوئی قتل ہو گیا یا مارا گیا تو اس کے آپ ذمہ دار ہوں گے۔پھر سائیکل پر اپنے گھر آ گیا۔اس وقت ملوس والے دروازے وغیرہ توڑ پھوڑ کر کے جاچکے تھے ؟ " ۵ - جناب مولا بخش صاحب، محمد لطیف صاحب اور محمد حسین صاحب کا مشترکہ بیان: ر ہمارے مکانات واقع گلی مولوی سراج الدین ایک دوسرے سے ملحق ہیں۔فروسی کے اوائل میں ہمارے کانوں میں یہ آوازیں پڑتی تھیں کہ ۲۶ فروری آرہی ہے جو کہ آپ کیلئے شدید اور سخت ہے۔چنانچہ ۲۵ فروری کی رات کو قریباً ساڑھے نو بجے ایک سو سے زائد افراد پرمشتمل ایک ہجوم ہمارے مکانوں کے سامنے آکر بے پناہ شور کرنے لگ گیا اور ہمارے دروازوں اور کھڑکیوں پر اینٹیں اور پتھر برسانے لگا۔ہم نے انہیں بہتر سمجھایا کہ ان حرکتوں سے باز آجاؤ آخر ہم نے آپ کا کیا بگاڑا ہے لیکن انہوں نے ہماری ایک نہ سنی بلکہ شرارت میں بڑھتے ہی گئے۔کبھی جلوس کی شکل میں سامنے بازار چلے