تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 499
that "the pages of Muhammadan history are stained with the blood of many cruel persecutions۔" 1 علماء نے اپنے آپ کو نظریات قائم کرنے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ وقتاً فوقتاً عمل اقدام بھی کرتے رہے۔چنانچہ ۱۹۵۳ء میں بھی ایسا ہی واقعہ رونما ہوا جبکہ ان کی چود تنظیموں۔بنشمولیت احرار اور جماعت اسلامی نے جو اس ایجی ٹیشن میں نمایاں کردار ادا کر رہی تھیں فرقہ احمدیہ کے خلاف ایک زبر دست مہم کا آغاز کیا۔اگر چہ حقیقی اختلاف اس سیاسی کشمکش میں مضمر تھا جو شہری متوسط طبقہ اور جاگیر دار طبقے میں جاری تھی مگر اس موقع پر علماء نے مذہ نہی مسائل پر اختلافات کو ہوا دی اور مندرجہ ذیل مطالبات پیش کر دیئے۔ایک یہ کہ احمدیوں کو ایک غیر مسلم فرقہ قرار دیا جائے۔دوسرے یہ کہ اس فرقے کا ایک رکن ہونے کی بناء پر چو ہدری ظفر احمد خان کو وزارت خارجہ سے ہٹا دیا جائے۔تیسرے یہ کہ تمام احمدیوں کو سرکاری عہدوں سے برطرف کیا جائے۔علماء کے اس مؤقف کو سرکاری حلقوں میں پذیرائی حاصل نہ ہوئی بلکہ اس کو غیر جمہوری اور مدرج اسلام کے متضاد سمجھتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی۔ویسے اس کی وجہ سے علماء کو موس و الزام بھی نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تاریخ اس قسم کی بعض ظالمانہ ایذا رسانیوں کے خون سے داغدار ہے۔1 PAKISTAN۔Philosoply and Sociolołgy, p p: 98-99 By 1۔Stepanyants, Published by: U۔S۔S۔۔R۔Academy of Sciences, Institute of Philosophy