تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 496 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 496

مندر کا لازمی فرض ہوگا۔کہ وہ پاکستان کی حمایت کریں۔اس بیان پہ مولانا مودودی نے صادر فرمایا۔تحقیقات کے دوران بعض علماء نے بیان کیا کہ ایک اسلامی ریاست میں مصوری۔انسانوں کی فوٹو اتارنا - مجتمہ سازی - تاش کھیلنا - موسیقی - رقص - ایکٹنگ اور ہر طرح کے سینما اور ڈرامائی کردار حکم امتناعی لگانا ہوگا۔مولانا ابوالحسنات نے بیان کیا۔کہ ایک پولیس مین یا فوجی ملازم کو اپنے مذہب کی بناء پر اختیار ہو گا۔کہ وہ اپنے اعلیٰ افسران کے کسی بھی حکم کو ماننے سے انکار کردے انہوں نے مزید یہ فرمایا۔کہ ایک نوجی با پو لیس بین اس بات میں آزاد ہوگا کہ وہ خود فیصلہ کرے۔کہ آیا اس کے افسر کا کوئی خاص حکم مشروع (محمدی) کے مخالف ہے یا نہیں۔سوائے اس کے کہ پاکستان کی کسی غیر مسلم ملک سے جنگ کی صورت میں کسی فوجی ملازم کو یہ اختیار نہ ہو گا۔کہ دہ از خود فیصلہ کرے بلکہ ایسی صورت میں اس کو چاہیئے کہ وہ علماء (اسلام ) کے فتوی پر انحصار کرے۔مولانا عبد الحامد بدایونی اور کچھ دوسرے علماء کے خیال میں مردوں کی چیڑ پھاڑ جو میڈ یکل کالجوں میں ہوتی ہے یا پوسٹ مارٹم وغیرہ خلاف اسلام ہیں۔جب علماء سے یہ کہا گیا کہ مسلمان کی تعریف بیان کہیں۔ا تو اس میں بھی مختلف خیالات کے علماء کا آپس میں مادی اختلاف تھا۔۔پورٹ اس کیفیت کو اختصار یوں بیان کرتی ہے۔" اُن بہت سی تعریفوں کے پیش نظر جو کہ علماء نے پیش کی ہیں۔کیا ہمیں کسی تبصرے کی ضرورت ہے سوائے اس کے کہ کوئی بھی دو مقدس عالم اس بنیادی اصول پر متفق نہ تھے۔اگر ہم خود اسلام کی تعریف پیش کرنے کی کوشش کریں۔جیسا کہ سر فاضل عالم دین نے کی ہے اور ہماری تعریف ان سے مختلف موجود ، سروں نے کی ہے تو ہم متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج اور اگر ہم کسی ایک عالم کی بتائی ہوئی تعریف کو قبول کر لیں۔تو ہم صرف اس ایک عالم کی تعریف کے مطابق ہی مسلمان رہتے ہیں۔لیکن باقی تمام علماء کی تعریفوں کے مطابق ہم کافر بن جاتے ہیں۔!