تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 40
پیٹھ ٹھونکتا۔اور اُن کو حملہ کے لیے اکساتا تھا - جناب شیخ نیاز احمد صاحب ریٹائر ڈ انسپکٹر پولیس شورش کے دنوں میں گوجرانوالہ میں اپنے آبائی مکان میں فروکش تھے اور فالج اور دیگر عوارض میں مبتلا ہونے کے باعث صاحب فراش تھے اور چلنے پھرنے سے معذور۔انہی ایام میں آپ نے اپنے خط میں لکھا تھا :- یہاں گوجرانوالہ میں لاقانونیت انتہائی صورت اختیار کر چکی ہے۔علی الاعلان غنڈے بلا روک ٹوک لوٹ مار کر رہے ہیں اور ملانے کو چہ بہ کوچہ کھلم کھلا تقریریں اشتعال پیگیز کرتے ہیں میں میں وہ لوٹ اور ہر قسم کی سختی احمدیوں سے کرنے کی پر زور الفاظ میں تحریک کرتے پُر ہیں۔مقامی افسران بھی اُن سے ملے ہوئے ہیں۔سارے شہر میں کہیں بھی پولیس کا آدمی نظر نہ آئے گا۔اور غنڈے بغیر کسی روکاوٹ کے من مانی سختیاں احمدیوں پر کہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔تمہارے مکان پر نہایت شدت سے حملے کیے گئے ہیں۔غنڈے سینکڑوں کی تعداد میں ڈھول بجاتے ہوئے لاٹھیوں اور پتھروں سے مسلح۔گندی گالیاں دیتے آتے ہیں اور آتے ہی دھاوا کرتے ہیں۔دروازوں کو زور زور سے توڑتے ہیں۔اینٹیں اور پھر مار کر سخت تشویشناک حالت بر پا ہو جاتی ہے میرے مکان کے روشندان شیشے وغیرہ ٹوٹ گئے ہیں۔مکان اینٹوں سے بھرا ہوا ہے۔- عبدالحمید صاحب ٹیلر ماسٹر کا تحریری بیان ہے۔مورخہ 4 مارچ بروز جمعہ صبح سے ہمارے گھر ٹولیاں آنی شروع ہو گئیں۔ہم نے دروازہ بند کر لیا تھا۔وہ باہر آکر بد زبانی کرتے اور دروازہ کو اینٹیں اور لاٹھیاں مارتے تھے اور ساتھ ہی کہتے تھے۔آج رات کو ان کا مکان بھی جلا دیں گے اور ان کی بے عزتی کریں گے اور یہ ٹولیاں ہر دس منٹ کے بعد چکر لگاتی تھیں اور دروازے پر آ کہ بدزبانی کرتے تھے ہمارا ایک غیر احمدی رشتہ دار ہمارے گھر آیا تو مجمع نے اس کو ہمارہ سے گھر میں نہ آنے دیا اور وہ بیچارہ واپس چلا گیا۔اس مجمع یا ٹولیوں میں تہار سے محلہ کا کوئی آدمی شامل نہ تھا۔عرب دوسرے محلوں سے آئے ہوئے تھے۔محلہ والے گھروں سے باہر نکل کر تماشا مر در دیکھ رہے تھے۔""