تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 39 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 39

تو اُسے واپس کر دیا جاتا تھا۔۱۲۲ فروری ۱۹۵۳ء کو مطالبات نہ مانے جانے کے بعد مجلس عمل کے راست اقدام شروع کرنے کے بعد مجاہدین، جلوس بتا کہ کچہری میں آتے اور تمام کچہریوں کے گرد گہ لگاتے۔ختم نبوت زندہ باد - مرزائیت مردہ باد - حکومت مردہ باد کے نعرے لگاتے اور جو گرفتار ہونے کے لیے آتے وہ اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیتے۔ایسے جلوس ۴ ر مارچ سے ۱۵ر مارچ تک جاری رہے۔جلوس میں با وجود باغیانہ اور اشتعال انگیز نعرے لگائے جانے کے مقامی حکام ایسے جلوسوں کو روکنے کی کوشش نہ کرتے۔بالآخر ٹڑی حکام نے آگر سول حکام کو ۱۵ار مارچ کو توجہ دلائی کہ ایسے جلوس بند ہونے چاہئیں۔تب جا کہ مقامی حکام نے سختی سے ایسے جلوسوں کو بند کر دیا۔پہلے چند بچے کسی احمدی کے مکان کے سامنے آکر احمدیوں کو گندی گالیاں دیتے اور اشتعال انگیز نعرے لگاتے۔پھر اُن سے بڑی عمر کے لڑکے آجاتے اور دروازوں پر پتھراؤں شروع کر دیتے اور بالآخر معمر لوگ آتے اور مکانات کے دروازے وغیرہ توڑ کر مکینوں کو ڈانگوں اور چھروں وغیرہ سے ڈراتے اور کہتے کہ احمدیت سے تائب ہو جاؤ ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے اور تمہاری مستورات اٹھائی جائیں گی۔اگر کوئی ایسا کرنے سے انکا نہ کرتا تو اس کے مکان کا سامان توڑ پھوڑ دیا جاتا اور لوٹ لیا جاتا اور بعض اوقات آگ لگا دی جاتی۔عام طور پر حملہ اور ایک محلہ کے دوسرے محلہ میں جا کر حملہ کرتے۔تاکہ پہچانے نہ جائیں اور محلہ والے پاس کھڑے ہو کر تماشا دیکھتے ماسوائے چند شرفاء کے جو حملہ آوروں کو منع کرتے لیکن حملہ آور اُن کو بھی مار ڈالنے کی دھمکی دیتے جس کی وجہ سے وہ بھی خاموش ہو جاتے۔حملہ کرنے سے پہلے افواہیں پھیلائی جاتیں کہ فلاں احمدی کے مکان پر فلاں وقت حملہ کیا جائے گا تا کہ خوف وڈر کی وجہ سے وہ مکان چھوڑ جائے۔پولیس چوکیوں پر اطلاع دینے پر پولیس والے جان بوجھ کر جائے واردات کی بجائے دوسرے محلہ میں پہلے جاتے اور یہ پورٹ کر دیتے کہ کوئی خطرہ نہیں ہے جس کی وجہ سے مقامی حکام بالا سمجھتے کہ احمدیوں کو شہر میں کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔پولیس کا چھوٹا عملہ حملہ آوروں کی