تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 475
۴۷۳ اور بتا یہ آئے کہ خیریت سے وہ خود بھی دوسروں کی نظروں میں کافر ہی قرار پائے ہیں۔اور وہ تکفیر بازی کی مشق آپس ہی میں ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔مثلاً مولانا محمد علی کا نامعلومی نے شہادت لیتے ہوئے بعض سوالات کے جواب میں فرمایا کہ ابتدائے اسلام ہی سے علماء ایک دوسرے کو کافر کہتے آئے ہیں۔مسلمانوں نے جبرو قدر کے مسئلہ پر ایک دوسرے کو کافر لکھا ہے۔معتزلہ اور اہل قرآن دونوں کا فر ہیں علماء نے امام ابن تیمیہ اور عبد الوھاب کو بھی کافر قرار دیا ہے۔علماء نے دیوبندی علماء کی تھی تکفیر کی ہے۔(نوائے وقت ۲۴٫۲۳ اکتوبر ۱۹۵۳) سبحان اللہ سرکاری کمیشن کو باور کرایا جارہا ہے کہ خود مکفر علماء بھی گھر سے نہیں بچے اور انہوں نے تکفیر کے تیروں سے کسی بڑے چھوٹے کو نہیں چھوڑا عدالت تو یہ معلوم کرنا چاہتی منفی کہ جو علماء قادیانیوں کو بڑھ چڑھ کہ کافر کہ رہے ہیں وہ خود بھی مسلمان ہیں یا نہیں ؟ا خوش قسمتی سے علماء کرام نے عدالت کی یہ خواہش بھی پوری کی۔اور باتوں ہی باتوں میں اگل گئے کہ خیریت سے وہ بھی دوسرے کی نظروں میں کا فر ہی رہے۔اور دوسرے ان کی نظروں میں خارج از ملت۔خیر ! یہ تو علماء کا بھولا پن تھا۔کہ آپس کی باتیں جوں کے سامنے کہہ بیٹھے اور یوں قادیانیوں کا بوجھ ہلکا ہوا۔افسوسناک چیز تو یہ ہے کہ علماء نے ایک دوسرے کے خلاف باتیں کہیں اور ایک نے دوسرے کے نظریہ، فیصلہ اور فتومنی کو جھٹلایا اور مسٹروں کو اپنے اوپر ہنسنے کا موقع دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لوان محترم ! اللہ علماء کو تکفیر بازی سے رد کیے۔ورنہ اس گروہ کا انجام بخیر نظر نہیں آتا۔کچھ امید تھی که جماعت اسلامی کے امیر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اپنا مسلک اعتدال، تکفیر کے میدان سے الگ رکھیں گے۔اور اس بارہ میں علماء کی کچھ ایسی اصلاح کر میا ئیں گے کہ یہ فتنہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔مگر افسوس ہے کہ اینٹی قادیانی تحریک میں وہ ایسے گرے کہ ان کی ریفارمیشن کا سارا مھرم کھل گیا۔اگر کرو میں روا باشد ہی ان کا مسلک تھا تو انہیں مسلمانوں پر الفاظ کا جادو تو نہ چلانا چاہیئے تھا۔یہیں آگہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ قدرت نے مدیر " صدق جدید کو ہی کار پیدا نہیں کیا ہے انہوں نے تکفیر بازی کے اس دور میں جس دور رس نگا ہی کا ثبوت دیتے ہوئے فتنہ تکفیر پر ضرب لگائی ہے اس پر ہم تو کیا شاید کوئی آنے والا مجدد ہی داد دے سکے گا۔مدیر صدق جدید کی