تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 462
کا حق ہو گا یا نہیں ؟ا فاصل بیج لکھتے ہیں :۔" اگر ہم اسلامی دستور نافذ کریں گے تو پاکستان میں غیر مسلموں کا موقف کیا ہوگا ہے متاز علماء کی رائے یہ ہے کہ پاکستان کی اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کی حیثیت زمیتوں کی سی ہوگی اور وہ پاکستان کے پورے شہری نہ ہوں گے کیونکہ ان کو مسلمانوں کے مساوی حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔وضع قوانین میں اُن کی کوئی آوازہ نہ ہو گی۔قانون کے نفاذ میں اُن کا کوئی حصہ نہ ہوگا اور انہیں سرکاری عہدوں پہ فائز ہونے کا کوئی حق نہ ہو گا یا ہے فاضل رج مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی کی شہادت سے متعلقہ فقرات درج کر کے یہ د پس اس عالم دین کی شہادت کی رو سے پاکستان کے غیر مسلم نہ تو شہری ہوں گے انہیں زمیوں یا معاہدوں کی حیثیت حاصل ہوگی یا سے امیر شریعت احرار جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ ٹیکن نہیں کہ کوئی مسلمان کسی غیر مسلم حکومت کا وفادار ہو۔اسی طرح چار کروڑ مہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی یہ مکن نہیں کہ وہ اپنی مملکت کے وفادار شہری ہوں یاسے اس بیان پر فاضل جج لکھتے ہیں :۔یہ جواب اس نظریے کے بالکل مطابق ہے جو ہمارے سامنے پر زور طریق پر پیش کیا گیا ہے۔لیکن اگر پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے دستور کی بنیاد مذہب پر رکھتے تو ہی حق اپنے ملکوں کو بھی دینا ہوگا۔جن میں مسلمان کافی بڑی اقلیتوں پر مشتمل ہیں یا جو کسی ایسے ملک میں غالب اکثریت رکھتے ہیں جن میں حاکمیت کسی غیر مسلم قوم کو حاصل ہے۔اسے پی جب پاکستان کی اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کا یہ موقف ہوگا تو رو عمل کے طور پر اس کے بعض نتائج ان مسلمانوں پر ضرور اثر انداز ہوں گے جو غیر مسلم مملکتوں میں آباد ہیں۔اس لیے عدالت نے علماء سے یہ سوال کیا کہ اگر پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ شہریت کے معاملات میں مسلموں سے ش کر پورٹ تحقیقاتی عدالت، صفحه ۲۲۹ : سه ر پورٹ تحقیقاتی عدالت مستحمر منبر ۲۳۱ سے ایضاً مر ۲۲۵ سے رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحه ۲۴۵