تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 458 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 458

۴۵۶ مدیہ اختیار کیا اور چو ہدری ظفر اللہ خاں نے جنہیں قائد اعظم نے اس کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا کیس پیش کرنے پر مامور کیا تھا خاص قسم کے دلائل پیش کیے لیکن عدالت ہذا کا صدر جو اس کمیشن کا نمبر تھا اس بہادرانہ جد وجہد پر تشکر و امتنان کا اظہار کر نا اپنا فرض سمجھتا ہے جو چو ہدری ظفر اللہ خاں نے گھر یہ داسپور کے معاملے میں کی تھی۔یہ حقیقت باؤنڈری کمیشن کے کاغذات میں ظاہر وباہر ہے اور جس شخص کو اس مسئلے۔دلچسپی ہو رہ شوق سے اس ریکار ڈ کا معائنہ کر سکتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں نے مسلمانوں کی نہایت بے غرضانہ خدمات انجام دیں۔ان کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالت تحقیقات میں اُن کا ذکر میں اندازہ میں کیا ہے وہ شرمناک ناشکرے پن کا ثبوت ہے لہ ۱۹۵۳ء کی ساری شورش ستحفظ ختم نبوت کے نام پر اٹھائی گئی تھی۔فاضل جوں نے اپنی رپورٹ میں جماعت احمدیہ کا ذکر کر کے لکھا : - ہمارے سامنے تو موقف اختیار کیا گیا ہے وہ واضح طور پر یہ ہے کہ مرزا غلام احمد اپنے آپ کو محض اس لیے نبی کہتے تھے کہ اُن کو ایک الہام میں اللہ تعالیٰ نے نبی کر کے مخاطب کیا تھا۔وہ کوئی نیا قانون یا ضابطہ نہیں لائے۔انہوں نے اصلی اور پرانی شریعت میں نہ کوئی تنسیخ کی ہے نہ اضافہ کیا ہے۔اور مرزا صاحب کی وحی پر ایمان نہ لانے سے کوئی شخص خارج از اسلام قرار نہیں دیا جا سکتا ہ سے فاضل ججوں نے مسئلہ وفات درحیات مسیح کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کا یہ عقبہ درج کیا ہے کہ :۔" میری صلیب پر نہیں ، بلکہ عام حالات میں طبعی موت مرے تھے۔اُن کے حصائل رکھنے والا ایک اور آدمی موعود تھا۔چنانچہ وہ مرزا غلام احمد کی شخصیت میں ظہور کہ چکا ہے۔دہ نامور علماء دائمہ کی کئی تحریرات اپنے اس عقیدہ کی تائید میں پیش کرتے ہیں کہ روزہ قیامت سے پیشتر جویی موعود ظاہر ہونے والا تھا خود مسیح نہیں بلکہ مثیل مسیح ہو گائے سے سے رپورٹ تحقیقاتی عدالت ۲ : ۲ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۱۹۹ سے رپورٹ تحقیقاتی عدالت، صفحه ۲۰۲