تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 457
۴۵۵ کیا کرنا چاہیئے۔ہرشخص محسوس کر رہا تھا کہ فوج خصہ کام انجام دے سکتی تھی لیکن کس کو بہ معلوم نہ تھا کہ ایسا کیوں نہ ہوا۔بعض کہتے ہیں کہ وہ تین تھے اور چو تھا ان کا کتا تھا۔دوسرے کہتے ہیں کہ وہ پانچ سھتے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔لوگ یونہی قیاسی باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔تو کہدے کہ میرا خدا بہتر جانتا ہے (کہف) ہمیں یقین واثق ہے کہ اگر احرار کے مسئلے کو سیاسی مصالح سے الگ ہو کر محض قانون د انتظام کا مسئلہ قرار دیا جاتا تو صرف ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایک سپر نٹنڈنٹ پولیس ان کے تدارک کے لیے کافی تھے۔چنانچہ وہ طاقت جسے انسانی ضمیر کہتے ہیں۔ہمیں یہ سوال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔کہ آیا ہمارے سیاسی ارتقاد کے موجودہ مرحلے پر قانون و انتظام کا مسئلہ اس جمہوری ہم بستر سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا جسے وزارتی حکومت کہتے ہیں۔اور جس کے سینے پر ہر وقت کا بوس سوار رہتا ہے۔لیکن اگر جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ قانون و انتظام کو سیاسی اعتراض کے ماتحت کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ ہی علیم وخبیر ہے کہ کیا ہوگا اور یہاں ہم رپورٹ کو ختم کرتے ہیں یہ لے رپورٹ تحقیقاتی عدالت ار احراری از آن کا جائزہ اور میٹر تک میں جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال پیدا کرنے کے لیے جو الزامات جماعت احمدیہ پر مسلسل عائد کر رہے تھے۔تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں اُن کا جائزہ بھی لیا گیا۔مثلاً رپورٹ میں لکھا ہے :۔احرار می تقرین کئی دفعہ اپنی تقریروں میں کہ چکے ہیں کہ مرزا محمود احمد اور چوہدری ظفر اللہ خاں کی غداری ہی کی وجہ سے ضلع گورداسپور بھارت میں شامل ہو گیا اور پاکستان کو نہ مل سکان سے فاصل مجوں نے اس الزام کو سراسر جھوٹا قرار دیا اور اپنی رپورٹ میں لکھا:۔احمدیوں کے خلاف معاندانہ اور بے بنیاد الزامات لگانے گئے ہیں کہ بونڈری کمیشن کے فیصلے میں ضلع گورداسپوبہ اس لیے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا کہ احمدیوں نے ایک خاص تحقیقاتی رپورٹ میں ۳۲۴ تا ۴۲۵ : سه رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ۱۲۵ - ۱۲۶