تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 456 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 456

۴۵۴ یہ خیال ظاہر کیا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔اخبارات نے یقینا ڈائر یکٹر تعلقات عامہ کی حوصلہ افزائی سے شورش کی آگ کو ہوا دی اور ہم ڈاکٹر قریشی کے اس خیال سے متفق ہیں کہ مسٹر دولتانہ ہرگزہ اس امر سے بے خبر نہ ہو سکتے تھے۔کہ اخبارات کیا کر رہے ہیں۔اردو کے چار اخباروں کو ان کے ہزاروں پر چوں کے عوض بڑی بڑی رقمیں دی گئیں اور وہ پرچے بھی شاید خرید سے نہ گئے۔اور یہ سب کچھ ایک پرانی پالیسی کی تعمیل میں کیا گیا۔کہ حکومت کی حمایت کرنے والے اخباروں کی سر پرستی کی جائے اور اگر چہ یہی اخبارات سب سے زیادہ سٹورش انگیزی کر رہے تھے۔لیکن بجولائی 1907ء میں ان کے معاہدوں کی تجدید کر دی گئی اور مسٹر دولتانہ کو اس کا علم تھا دو لاکھ روپے کی رقم تو امی نے ناخواندہ یا نوں کی تعلیم کے لیے منظور کی تھی مسٹر و دولتانہ کے احکام کے ماتحت ان چار اختاروں کی خریداری کیلئے منتقل کرلی گئی۔اور کہا گیا کہ اس سکیم کو خفیہ رکھا جائے۔ڈار کیٹر نے نہایت خیرہ پیشی سے ہمارے سامنے بیان کیا کہ بی سیم خواندگی کو ترقی دینے کے لیے نہیں بلکہ خاص قسم کے اخباروں کی امداد کے لیے وضع کی گئی تھی۔زمیندار" با وجود اس امر کے کہ وہ جولائی ۱۹۵۲ء کے بعد بھی جب ڈاکٹر قریشی نے مسٹر و دلتانہ سے شکایت کی متقی ، برابر نفرت کی تلقین و اشاعت کرتا رہا۔گویا مامور من اللہ سمجھا جاتا رہا اور اس کے خلاف اقدام اس وقت تک ملتوی ہوتا رہا سبب آخراس التواء کی کوئی گنجائش نہ رہی۔کیونکہ مرکز نے سخت شکایت کی تھی۔احراریوں کے آرگن آزاد کی طرف مرکز نے بار بار صوبائی حکومت کو توجہ دلائی اور صوبائی حکومت نے ہر دفعہ محنی تنبیہ پر اکتفا کیا۔مجلس عمل کے چیلنج کو دونوں میں سے کسی حکومت نے بھی سنجیدگی سے قابلِ توجہ نہ سمجھا۔خواجہ ناظم الدین آخری لمحے تک اسی اُمید میں رہے کہ غیب سے کوئی اچھا سامان ہو جائے گا۔اور صوبائی حکومت مطمئن رہی کہ شورش کا آغانہ کراچی میں ہو گا۔آخر کار حب الٹی میٹم۔ذکر دیا گیا۔تو پوری صورت حالات کو بالکل تھیٹر کے ایک پر امن تماشے کی طرح سمجھا گیا۔جس میں مطمئن سامعین کی دلچسپی کے لیے سٹیج پر جلوس نکالے اور نعرے لگانے جا رہے ہوں۔لاہور میں جلوس قریب قریب روزانہ نکلتے ہیں۔اور کوئی شخص ان کی پرواہ بھی نہیں کرتا۔جرگے بہت ہو رہے تھے۔اور کارروائی بالکل مفقود تھی ، پولیس بھی موجود دھتی اور فوج بھی موجود تھی۔اور جیسا کہ آفسر نے کہا ہر شخص صورت حالات کے متعلق گہرے غور وخوض میں مصروف تھا اور ہر شخص کو معلوم تھا۔کہ