تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 455 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 455

میں پیش کیا۔علماء نے اس کا باپ بنا منظور کر لی۔لیکن مسٹر دوستان نے سمجھ لیا کہ یہ بچہ بڑا ہوکر پنجاب میں شرارت کر دے گا لہذا انہوں نے اس کو ایک نہر میں بہا دیا۔جو میر نور احمد کی مددستے کھو دی گئی تھی۔اور جس کو پانی اخباروں اور خود مستر دولتانہ نے بہیا کیا تھا۔جب یہ بچہ حضرت موسیٰ کی طرح بہتا ہوا خواجہ ناظم الدین تک پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ بچہ خوبصورت تو ہے۔لیکن اس کے چہرے پر ایک مین جین اور ایک غیر معلوم سی ناگواری نظر آتی ہے۔چنانچہ انہوں نے اس کو گود میں لینے سے انکار کیا۔اور پرے پھینک دیا۔اس پر نیچے نے ایڑیاں رگڑنا اور شور مچانا شروع کردیا۔اس شور نے اس کی پیدائش کے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اور خواجہ ناظم الدین اور مٹر و دولتانہ دونوں کو موقوف کرا دیا۔یہ بچہ ابھی زندہ ہے اور راہ دیکھ رہا ہے کہ کوئی آئے اور اسے اٹھا کر گود میں لے لے۔اس مملکت خدا داد پاکستان میں سیاسی ڈاکو ؤں۔طالع آنہ ماؤں اور گنام اور بے حیثیت آدمیوں۔غرض سب کے لیے کوئی نہ کوئی کر دنگار موجود ہے۔ہمارے سامنے صرف دو ایسے آدمی ہیں، جنہوں نے اس خستم کا روزگار قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔یعنی سردار بہادر خان وزیر مواصلات اور مسٹر حمید نظامی ایڈمیر" نوائے وقت" انہوں نے اس بچے کو اور اس کے تمام نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا یہ ہے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ مندرجہ ذیل فقرات پر ختم ہوتی ہے رپورٹ کے اختتامی الفاظ ہمارا خیا ہے کہ یہ مطلبات بغیر کسی مذہبی احتیاط کے بغیر امن عامہ کو خطرے میں ڈالے اور بغیر حیات عامہ کو صدمہ پہنچائے مسترد کیے جا سکتے تھے۔لیکن ہمارے نزدیک قانون و انتظام کی صورت حالات کے مقاصد کے لیے ان کا جواب دینا بالکل ضروری نہ تھا۔وہ صورت حالات تو ایک سادہ حکم امتناعی کے نفاذ ہی سے بہت بہتر ہو گئی تھی رگوده حکم بہت ناکافی تھا، لیکن جب جولائی ۱۵ء کے بعد احرار اور علماء کے ہر قول و فعل کی طرف سے کامل ہے پر دائی کا رویہ اختیار کر لیا گیا، تو وہ صورت حالات مچھر بگڑتی چلی گئی۔بلکہ اس کے بر عکس چیف منسٹر کی ان تقریروں کی وجہ سے یہ بگاڑ اور بھی نہ یادہ ہو گیا۔جن میں انہوں نے علی الاعلات ک تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ مک۳۰