تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 454 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 454

۴۵۲ در میان " قادیانی مسئلہ کا بم پھینک دیا لے تحقیقاتی عدالت کے بنیادی فرائض میں یہ شامل محتا کہ وہ تحقیق و تفتیش فسادات کی ذمہ داری کے بعد رائے قائم رہے کہ سادات کی ذمہ داری کس جماعت یا رو پر عائد ہوتی ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے فاضل جج صاحبان نے اگر چہ بعض واقعات کی طرف اشارہ کر کے یہ لکھا کہ :۔اُن کے خلاف عام شورش کا موقع خود انہیں کے طرز عمل نے بہم پہنچا یا ہے نگر بایں ہمہ انہوں نے واضح لفظوں میں یہ فیصلہ دیا :۔احمد می براہ راست فسادات کے لیے ذمہ دار نہ تھے کیونکہ فسادات حکومت کے ماسو اقدام کا نتیجہ تھے جو حکومت نے اس پروگرام کے خلاف کیا تھا جو ڈائر یکٹ ایکشن کی قرارداد کے ماتحت آل مسلم پارٹیز کنونشن نے اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا ا سے اس کے مقابل فاضل ججوں نے اپنی تحقیقات کی بناء پر مندرجہ ذیل جما عنتوں یا اداروں کو فسادات پنچا؟ کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا :- (1) مجلس احراره (۲) جماعت اسلامی (۳) آل پاکستان مسلم پارٹیز کنونش کرا چا ) آل مسلم پارٹیز کنونشن لاہور (ہ) تعلیمات اسلامی بورڈ کراچی کے ممبر (4) صوبائی مسلم لیگ (۷) مرکزی حکومت (۸) محکمہ اسلامیات (۹) اخبارات مطالبات کا بے فائل کا سامان سے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا۔خواجہ ناظم الدین نے اپنی شہادت میں ایک نہایت موزوں تشبیہ استعمال کی ہے۔اور شکایت کی ہے کہ مسٹر دولتانہ چاہتے تھے کہ میں " ننھے کو لیے رہوں، اگر مطالبات کو ایک ننھے بچے سے تشبیہ دی جائے۔تو فرمہ داری کے پورے موضوع کو ایک فقرے میں بیان کیا جا سکتا ہے۔مثلاً احرار نے ایک بچہ جنا جسے انہوں نے متبثی بنانے کے لیے علماء کی خدمت ے رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ نمبر ۱ ، ۲ : شه رپورٹ تحقیقاتی عدالت صرا۲۸ ایضاً ص ۲۷۹