تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 453 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 453

اور اور مارچ کی صبح کو حکومت کی مشینری میں پورے سقوط کے آثار نظر آنے لگے۔یہاں تک کر کورت نے طوائف الماء کی کے آگے کھلم کھلا ہتھیار ڈال دینے کا اعلان کر دیا۔اس دن صبح کو چیف منسٹر کا بیان محض میکیاولیت کا ایک نمونہ تھا۔لیکن یہ چال کامیاب نہ ہوسکی۔صورت حالات بالکل قابو سے باہر ہوگئی اور شہریوں نے محسوس کیا کہ ان کے جان و مال کو سخت خطرہ درپیش ہے الخ “ لے سہ پہر کے جلسہ میں گورزا اور چیف منسٹر کے ایماء پر انسپکٹر جنرل پولیس نے صورت حالات کی معضل کیفیت بیان کی۔ان کے بعد دوا اور مقررین یعنی مولانا ابوالاعلی مودودی اور مسٹر احمد سعید کرمانی ایم ایل اے نے تقریریں کیں۔مولانا نے صورت حالات کو حکومت اور عوام کے درمیان خانہ جنگی سے تعبیر کیا اور بتایا کہ جب تک حکومت عوام کے مطالبات کے متعلق خور کرنے پر آمادگی ظاہر نہ کرے گی میں کسی اپیل میں تشریک نہیں ہو سکتا ہے انہی کے متعلق ایک دوسری جگہ لکھا ہے کہ :۔جماعت اسلامی کے لیڈر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے حکومت کی ان سر توڑ کوششوں میں جو وہ ر مارچ کو فسادات کے روکنے کے لیے کر رہی تھی کسی قسم کا تعاون پیش نہ کیا۔۔۔۔۔۔اس کے برعکس مولانا نے سرکشانہ رویہ اختیار کیا تمام واقعات کا الزام حکومت پر عائد کیا اور فسادی عناصر کو تشدد کا شکار کہ کر ان سے عام ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کی۔گورنمنٹ ہاؤس میں انہوں نے جور دیہ اختیار کیا اس کے متعلق جو شہادت پیش ہوئی ہے اس سے ہم یہی اثر قبول کر سکتے ہیں کہ وہ پورے نظام حکومت کے انہدام کی توقع کر رہے تھے اور حکومت کی متوقع پر یشانی پر بغلیں بجارہے تھے۔اس نے ان فسادات کو فرو کرنے کے لیے ہو نہایت سرعت سے نہایت تشویش انگیز صورت اختیار کر رہے تھے قوت کا استعمال کیا۔سید فردوس شاہ کو ہم کی شام کو ایک عضب ناک ہجوم نے مسجد وزیر خاں کے اندر یا با سر قتل کر دیا۔یہ بعد میں ہونے والے واقعات کا محض ایک پیش خیمہ تھا لیکن اس حادثے کے بعد بھی جماعت اسلامی نے نہ اظہار تاسف کیا نہ اس وحشیانہ قتل کی مذمت میں ایک لفظ کہا بلکہ اس کے برعکس اس جماعت کے بانی نے آگ اور خون کے اس ہولناک ہنگامے کے سه ر پورٹ م۳ ۲۵ ب سه رپورٹ ص۱۶۳ : ۳ رپورٹ تحقیقاتی عدالت ۲۵۰