تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 452 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 452

یہ امر تمام جماعتوں کے نزدیک مسلم ہے کہ ہر مارچ کو جو کوائف موجود تھے ان میں حالات کو نوج کے حوالے اور سول اقتدار کو فوج کے ماتحت کر دینا بالکل ناگزیر ہو چکا تھا۔سول کے حکام جو عام حالات میں قانون و انتظام کے قیام کے ذمہ دار ہوتے ہیں کا ملا بے بس ہو چکے تھے اور ان میں 4 مارچ کو پیدا ہونے والی صورت حالات کا مقابلہ کرنے کی کوئی خواہش اور اہلیت باقی نہ رہی تھی۔نظم حکومت کی مشینری بالکل بگڑ چکی تھی اور کوئی شخص مجرموں کو گر فتار کر کے یا ارتکاب جرم کو روک کر قانون کو نافذ العمل کرنے کی ذمہ داری لینے پر آمادہ یا خواہاں نہ تھا۔انسانوں کے بڑے بڑے مجمعوں نے سنجو معمولی حالات میں معقول اور سنجیدہ شہریوں پر شتمل تھے ایسے سرکش اور جنوں زدہ بچوموں کی شکل اختیار کر لی تھی جن کا واحد جد یہ یہ تھا کہ قانون کی نافرمانی کریں اور حکومت وقت کو جھکنے پر مجبور کر دیں۔اس کے ساتھ ہی معاشرے کے ادئی اور ذلیل عناصر موجودہ بد نظمی اور ابتری سے فائدہ اٹھا کر جنگل کے درندوں کی طرح لوگوں قتل کر رہے تھے۔ان کی املاک کو لوٹ رہے مجھے اور قیمتی جائیداد کو نذر آتش کر رہے تھے محض اس لیے کہ یہ ایک دلچسپ تما شا تھا۔یا کسی خیالی دشمن سے بدلا لیا جا رہا تھا۔پوری مشینری جو معاشرے کو زندہ رکھتی ہے پرزہ پرزہ ہو چکی تھی۔اور مجنون انسانوں کو دوبارہ ہوش میں لانے اور بے میں شہریوں کی حفاظت کرنے کے لیے ضرور ی ہو گیا تھا کہ سخت سے سخت تدابیر اختیار کی جائیں گویا مارشل لاء کے نفاظ کی براہ راست ذمہ دار فسادات تھے " 1 اس کھلی بغاوت کے دوران صوبائی حکومت صوبائی حکومت اور سیاسی لیڈروں کا طرز عمل اور لاہور کے سیاسی بیٹیوں کا طرز صل عمل کیا تھا ؟ اس پر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ حسب ذیل روشنی ڈالتی ہے :- ر در مارچ کی سہ پہر کو گورنمنٹ ہاؤس میں شہریوں کا جو اجلاس ہوا اس میں کوئی لیڈر کوئی سیاسی آدمی اور کوئی شہری اس پر آمادہ نہ ہوا کہ شہریوں سے عقل و ہوش اختیار کرنے کی اپیل پر دستخط کرے۔سب خوفزدہ تھے کہ ایسا کرنے سے وہ عوام میں نا مقبول ہو جائیں گے۔ٹوائی ہجوم نے کو توالی کا محاصرہ کر رکھا تھا اور ہر مارچ کی شام کو وزراء د حکام کے اجلاس میں جو فیصلے کیے گئے ان کا مطلب پولیس نے یہ سمجھا کہ گولی چلانا بالکل بند کر دیا جائے۔لہذا بلوائی ہجوم نے کوتوالی کا محاصرہ جاری رکھا۔ہ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ اردوس ۱۹۲ ۶۱۹۳