تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 451
۴۴۹ مٹی 10 ء میں اس اخبار سے بعض مضامین کے تراشے منسلک کر کے اُن کی طرف حکومت پنجاب کی توجیہ مبذول کرائی۔۔۔۔۔۔لیکن اس اخبار کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی اور حکومت پنجاب نے اپنی سیٹھی ڈی۔اور نمبری PRAY ۷۸۸ مورخه ۳۰ اگست ۱۹۵۳ء میں مرکزہ ہی حکومت کو صرف یہ اطلاع دے دی کہ اخبار مذکور کو شدید تنبیہ کر دی گئی ہے یا لے سپورت تحقیقاتی عدات کا ایک اہم نشان انا انا انا نان نان راست میگر را دارد فاضل رج صاحبان نے رپورٹ گوجرانوالہ کے حالات بیان کرتے ہوئے یہ ہم ایک میان کیا کہ جولائی ۱۵ کی ایک منو انفرنس میں ایک مقرر نے حضرت امام جماعت احمدیہ کے قتل پر اکسایا اور احمد می کوقتل کرنا موجب رضائے الہی قرار دیا۔رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں۔در جولائی 1924ء میں ایک اور کانفرنس ہوئی جس میں صاحبزادہ فیض الحسن نے یہ اعلان کیا کر کسی حمدی کو قتل کرنا رضائے الہی کا موجب ہے جب کا نفرنس ختم ہوئی تو مولانا اختر علی خان کے اعزاز میں ایک دعوت چائے دی گئی جس میں ڈپٹی کمشنر اور سلم لیگی لیڈر بھی شامل ہوئے بعد میں احمدیوں نے ڈپٹی کمشنر سے شکایت کی کہ اس کا نفرین میں ایک مقرر نے حاضرین کو امام جماعت احمدیہ کے قتل پر اکسایا تھا یا ہے یہ اشتعال انگیز ہاں جو معلوم نہیں شورش کے ایام میں کس کس شکل میں اور کس کس مقام پر کی گئیں پنجاب کی مسلم لیگی حکومت نے ان کو ذرہ برا یہ کوئی حیثیت نہ دی ، بالاخره رنگ لائیں اور - ار مارچ ۱۹۵۷ کو یعنی تحقیقاتی عدالت میں بیان کے صرف دو ماہ کے اندر حضرت مصلح موعود پر ایک بد بخت نے بیت مبارک ربوہ میں نماز عصر کے بعد چاقو سے حملہ کر دیا۔اس دردناک حادثہ کی تفصیل تاریخ احمدیت کی یادیں جلد میں اُرہی ہے۔رہ کو الف کیا تھے جو 4 مارچ ۱۹۵۳ٹ کو لاہور میں ماکوان مارشل لاء پر منتج ہونے والے کوائف مارشل لاء کے نفاذ کا موجب ہوئے ؟ ؟ فاضل جمی صاحبان نے اس ضمن میں لکھا : - کے ے رپورٹ تحقیقاتی عدالت مریام سے رپورٹ تحقیقاتی عدالت منادات پنجاب ۹۵۳ء منها داردد)