تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 450
۴۴۸ فاضل جج اس افواہ سے متعلق لکھتے ہیں :- ا ید بیان که بعضی احمد می فوجی وردیاں پہنے ایک جیپ میں سوار ہو کہ لوگوں کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنا رہے تھے۔ہمارے سامنے موضوع ثبوت بنایا گیا اور اس کی تائید میں متعدد گواہ پیش کیئے گئے۔اگر چہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک پر اسرار گاڑی میں بعضی نا معلوم آدمی اس دن شہر میں گھومتے رہے لیکن ہمارے سینے اس امر کی کوئی شہادت نہیں کہ اس گاڑی میں احمد می سوار تھے بادہ گاڑی کسی احمدی کی ملکیت تھی کیلئے جماعت احمدیہ کے امام اور دوسرے بزرگوں کو احراری لیڈروں نے فحش اور اخلاق سوز گالیاں دیں۔اس کا ذکر فاضل جج صاحبان نے درج ذیل الفاظ میں کیا ہے :- ایک اردو اخبار مزدور عمان سے شائع ہوتا ہے جس کا ایڈیٹر سید ابوذر بخاری ہے جو مشہور اواری لیڈر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا بیٹا ہے۔اس اختبار کی غالب توجہ صرف احمدیوں کے خلاف تحریک پر مرکز رہی ہے۔اس نے اپنی اشاعت مورخہ ۱۳ رجون 1927 میں ایک مضمون شائع کیا جس میں جماعت احمدیہ کے امام کے متعلق عربی خط میں ایک ایسی نیست اور بازاری بات لکھی کہ ہماری شائستگی ہمیں اس کی تصریح کی اجازت نہیں دیتی۔اگر یہ الفاظ احمدی جماعت کے کسی فرد کے سامنے کہے جاتے اور نتیجہ یہ ہوتا کہ کس کی کھوپڑی توڑ دی جاتی تو ہمیں اس پہ ذرا بھی تعجب نہ ہوتا۔جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ پرلے درجے کے مکروہ اور مبتذل ذوق کا ثبوت ہیں۔اور ان میں اس مقدس زبان کی نہایت گستاخانہ تضحیک کی گئی ہے جو قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی زبان ہے۔اُس زمانہ میں در آزاد " احراریوں کا ترجمان تھا۔فاضل جج صاحبان اس اخبار کی شرمناک اشتعال انگیزیوں کا ذکرہ کر کے لکھتے ہیں :۔ور آزاد احراریوں کا اخبار ہے جس کے ایڈیٹر ماسٹر تاج الدین انصاری ہیں۔اس اخبار نے اپنے آخانہ ہی سے اپنے کالموں میں احمدیوں اور ان کے عقائد اور ان کے لیڈروں کے خلاف نہایت بازاری ، ناشائستہ اور زمر علی مہم جاری کر رکھی تھی۔چونکہ حکومت پنجاب نے اس کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا تھا اس لیے مرکزی حکومت نے اپنی بیٹی نمبری - Poll ۲۲/۱/۵۱ مورخہ ۲۷ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ م۱۵۹ به من تحقیقاتی عدالت ص ۸۰ - ۸۸