تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 441
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔مسٹر خادم نے کہا کہ احمد یہ فرقہ گزشتہ میں چالیس برس ہے اس سلسلہ میں اپنی پوزیشن واضح کر رہا ہے که مرزا غلام احمد صاحب اور ان کے پیروکار اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت خود اختیاری کے لیے جنگ کے خلاف نہیں ہیں۔لیکن بدقسمتی سے جماعت کے خلاف پر دیسیگنڈا جاری رہا۔صدر انجمن احمد یہ ربوہ کے وکیل نے کہا کہ جہاد کے تصور کو بڑی کثرت سے غلط طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے اور اس کا مطلب یہ لیا جاتا رہا ہے کہ مسلمان مذہبی اختلافات کو جہاد شروع کرنے اور ان لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے جو مسلمانوں کے عقائد سے اتفاقا متفق نہیں ہیں کافی وجہ سمجھتے ہیں۔نزول مسیح کے عقیدے کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر خادم نے کہا کہ قرآن کی رو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام) ابن مریم ایک طبعی موت مرے تھے اور یہودیوں کے عقیدے کے برعکس ان کی موت صلیب پر واقع نہیں ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہودی پاتے ہیں کہ علیلی (علیہ السلام) ابن مریم کی موت صلیب پر واقع ہوئی کیونکہ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام پر خدا کا قہر نازل ہوا تھا۔اور وہ صلیب پر ایک ذلت آمیز موت مرے۔انہوں نے کہا کہ یہودی نظر یہ با لکل غلط ہے کیونکہ قرآن مجید اور حدیث نبوی میں نبی کے دوبارہ ظہور کی طرف اشارہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ میرا فرقہ مانتا ہے کہ ایک امتی نبی بن جائے گا۔صدر ضمن احمد بید بوہ کے وکیل نے کہا کہ احمدیوں کے خلاف یہ الزام ہے کہ انہوں نے (بعض اسلامی) اصطلا میں استعمال کر کے اسلام کی پیروڈی کی ہے۔بالکل غلط ہے یہ اصطلاحات بعض مسلمان اولیا ء کے لیے استعمال کی جاتی رہیں ہیں۔لیکن عام مسلمانوں نے اسے کبھی اشتعال انگیز خیال نہیں کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۷ء کے فسادات کے دوران میں عام مسلمانوں کا سلوک بہت شاندار رھا۔اور انہوں نے جان ومال کی حفاظت کے لیے اپنے احمد می ہمسایوں کی مدد کی۔انہوں نے کہا کہ جماعت کے خلاف جھوٹے اور معاندانہ پراپیگنڈے کے ذریعے یہ فسادات محدود نے چند لوگوں نے کرائے۔احمدیوں کے خلاف دوسرے الزامات میں کہا گیا ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو کافر Parody مضحکہ خیزه نقل