تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 439 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 439

۳۷ دوسرے فرقوں میں جواب احمدیوں کی مخالفت میں متحد ہیں کئی بار فساد ہوئے۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت اس لیے اور بھی زیادہ واضح ہوتی ہے اور اس کی طرف زیادہ نظر جاتی ہے جب یہ دیکھتے ہیں کہ عدالت کے سامنے شکایات میں اشتعال انگیز تحریز ی چیزیں پیش کی گئی ہیں وہ دسیوں برس پرانی ہیں۔وکیل نے کہا یہ بات انسانی فہم سے بالا ہے کہ ضروری اور مارچ ۹۵۳ہ کو یکا یک تمام دوسرے فرقوں پر اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ احمدیوں کا پراپیگنڈا اور تبلیغ اور خود احمدی اس قدر اشتعال انگیزی کر رہے ہیں کہ ان کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔مسٹر خادم نے کہا کہ یہ خیال سیح ہے کہ اسلامی تصورات کے مطابق مملکت پاکستان کے قیام نے تمام نظر یہ بدل ڈالا ہے اور یہ کہ تقسیم کے بعد مسلمانوں کے دوسرے فرقے دوسرے معاملات میں اس قدر مصروف تھے کہ وہ اس مسئلے پر جسے احد یہ فتنہ کہا جاتا ہے زیادہ توجہ صرف نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا تقسیم کے فوراً بعد جب حکومت اور عوام کے مر سر مسئلہ کشمیر اور مہاجرین کی آبادکاری کے مسائل کا بوجھ پڑا ہوا تھا اس وقت شیعوں اور سنیوں میں کم از کم چار بار فسادات ہوئے۔وکیل نے کہا کہ مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ خیال نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی اس کی بنیاد حقائق پر ہے کہ احمد می اور دوسرے مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ مل کہ امن سے نہیں رہ سکتے۔انہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ حالیہ مہنگاموں کی وجوہات کچھ اور ہی ہوں گی۔مسٹر خادم نے کہا کہ شروع میں جب احدارہ کو اپنی طاقت کے متعلق شک تھاوہ یہ خیال ظاہر کہ رہے تھے کہ ان کو اور احمدیوں کو اپنے اپنے جلسے کرنے کی اجازت دی جائے لیکن جونہی ان کو کافی امداد حاصل ہوگئی۔انہوں نے اپنا موقف تبدیل کر لیا۔انہوں نے کہا جہاں تک ختم نبوت کے عقیدہ کا تعلق ہے احمدیوں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں۔اختلاف صرف اس عقیدہ کی تشریح کے سلسلے میں ہے وکیل نے کہا : عقیدے کے سلسلے میں احمدیوں کا نقطہ نظر دوسرے مسلمانوں کے لیے نیا نہیں۔اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر انہوں نے مسلمان عالموں کی بہت سی تحریریں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان تحریروں کے متعلق چاہے کچھ بھی کہا جانے بہر حال یہ تو صاف ظاہر ہے کہ ان کو اسلام کے دائرہ سے خارج نہیں سمجھا جاتا رہا۔اور یہ کہ برسوں سے ان کے خیالات کو برداشت کیا جاتا رہا ہے۔