تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 438 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 438

دلائل کے تانے بانے کو توڑ مروڑ کر پرے پھینک رہا تھا۔ماحول دم بخود تھا اور جج صاحبان اس کے علم کی وسعتوں پر حیران تھے کے سلے بلک عبد الرحمن صاحب خادم گجراتی کے بیان کا ایک مجمیل ساخلاصه اعتبار ملت " لاہور نے اپنی ۲۸ فروری اور یکم مارچ ۱۹۵۲ء کی اشاعتوں میں سپرد قلم کیا جو حسب ذیل ہے :- امید مولانا میکش کے بعد صدر انجمن احمدیہ یہ بوہ کے وکیل مسٹر عبدالرحمن خادم نے اپنے دلائل دینا شروع کیے۔اور خدا کی قسم کھاتے ہوئے کہا کہ ان کا فرقہ اور اس کے بانی یہ یقین رکھتے ہیں کہ محمد عربی سے برابر می کرنے کا دعوی کرنے والا کوئی بھی آدمی کا فر ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احمدی مرزا غلام احمدکو اور اپنے آپ کو آنحضرت احمدیوں کا عقیدہ جو خاتم انہی میں علم سمجتے ہیں انہوں نے کہا احمدی ختم نبوت کے عقیدے میں یقین رکھتے ہیں اگر چہ انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ وہ اس کی ترجمانی مختلف طریقے سے کرتے ہیں۔مبوہ کے وکیل نے عدالت کے سامنے اس امر کا اظہار کیا کہ فسادات کی وجہ مذہب قرار نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ انہیں اس سے انکار نہیں ہے کہ احمدیوں اور مسلمانوں کے دوسرے فرقوں میں عقیدہ کے اختلافات موجود ہیں انہوں نے کہا کہ مذکورہ بالا حقیقت کا ثبوت یہی ہے کہ احمدی ایک الگ فرقہ بناتے ہیں۔مر خادم نے کہا یہ حقیقت کہ بعض لوگ عقیدہ کے معاملہ میں احمدیوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔لوٹ مار کرنے اور قتل کرنے کا جوازہ بہتا نہیں کرتی انہوں نے کہا اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔نہ ہی کوئی مذہب یا ضمیر اس کی اجازت دیتا ہے۔انہوں نے یہ تھیوری پیش کی کہ جب تک بعض دلچسپی رکھنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے مذہبی اختلافات کو استعمال نہ کریں اس وقت تک خطہ میں امن و امان کو نقصان نہیں پہنچ سکتا اور فسادات نہیں ہو سکتے۔۔مسٹر خادم نے کہا کہ گزشتہ ستر برس میں مہندوستان اور پاکستان میں کسی غیر احمدی کی طرف سے کسی کسی ایک احمد می کو نہیں مارا گیا۔یا احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان کو نا جھگڑا اور تنازعہ نہیں ہوا جبکہ به روز نامه" العضل" ٣٠ صلح ٣٣ من م ٣ جنوری ۱۱۹۵۸