تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 437 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 437

۴۳۵ قابلیت کے ساتھ دوسری پارٹیوں کے اعتراضات کے ایسے دندان شکن جواب دیتے کہ تحقیقاتی عدالت کے جج صاحبان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ تحقیقاتی عدالت کے صدر نے اس امر کا اظہار کیا کہ خادم صاحب نے بہت اچھی بحث کی ہے۔تحقیقاتی عدالت کی مطبوعہ رپورٹ میں زیر عنوان اسلامی اصطلاحات کا استعمال ان کا ذکر کیا ہے یا لے جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹرایٹ لاء امیر جماعت احمدیہ لاہور جنہوں نے خود بھی اس طویل تحقیقات کے دوران میں اوّل سے آخر تک جماعت احمدیہ کے مقدمہ کی پیروی کرتے ہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر دیں اور جن کی بیش بہا امداد و اعانت کا اعتراف فاضل جج صاحبان نے اپنی مطبوعہ ر پورس سے میں بھی کیا۔آپ اپنی چشم دید شہادت کی بناء پر تحریر فرماتے ہیں بہ اپنا نقطہ نظر پیش کرنے میں مکرم ملک صاحب مرحوم نہایت نڈر تھے اور اُن کی زبان اور نطق میں اللہ تعالیٰ نے بے اندازہ برکت رکھی تھی۔فسادات پنجاب (۱۹۵۳) کے تحقیقاتی کمیشن کے رو برو دینی حصہ کو پیش کرنے میں حبس بے کوٹ اور جرات مندانہ انداز میں آپ نے جماعت احمدیہ کی وکالت کی وہ فاضل ججان سے بھی خراج عقیدت حاصل کر گئی جس کا انہوں نے اپنی رپورٹ میں نہایت زور دار الفاظ میں ذکر کیا ہے۔جتنی دیر ملک صاحب تقریر کرتے رہے تمام سامعین گویا مسحور ہی رہے یا سے اسی طرح جناب ثاقب صاحب زیروی مدیر هفت روزه " لاہور نے "خادم - مجاہد احمدیت کے زیر عنوان ایک مضمون میں لکھا:۔ایک متعصب غیر احمدی نے بھری بزم میں کہا تھا کہ اسلام پر اعتراض کا جواب دے کر خادم کا چہرہ یوں کھل اُٹھتا ہے جیسے گلاب کا پھول" پھر یاد آئے اینٹی احمدیہ فسادات کی انکوائری کے وہ دن حسب اُس شیر کی وہاڑ سن کر مخالف سر نیو ڈھائے بیٹھے تھے اور شہباز احمدیت بات بات پر ان کے فرسودہ سه روزنامه الفضل ربوه در سی ۱۳۳۷ پیش من بہ سے رپورٹ تحقیقاتی عدالت اردو سٹ 41957 ه روزنامه الفضل" ربوه در امان سیا ۳ سوان من است $140