تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 423
سوال :۔خواجہ ناظم الدین نے کہا ہے کہ ایسا مرحوم قائد ملت کے زمانے میں ہوا تھا کہ آپ کا بینہ کے علم میں یہ بات لائے تھے کہ تین احمدیوں کو قتل کر دیا گیا ہے کیا یہ درست ہے؟ جواب:۔مجھے یاد ہے کہ کسی معاملے کے سلسلے میں میں نے اس معاملہ کا ذکر موجودہ گور نہ جنرل سے کیا تھا جو اس زمانے میں وزیر مالیات تھے۔میرا خیال ہے کہ اس وقت ہم ملک سے باہر تھے۔اپنی واپسی پر انہوں نے اس معاملہ کا ذکر اس وقت کے وزیر اعظم سے کیا تھا اور مکن ہے کہ اس کے پیش نظر کوئی تحقیقات کی گئی ہو۔سوال:۔کیا آپ کے علم میں پاکستانی کا بلینہ نے ، یا د راگست ۱۹۵۲ ء کو یا اس کے لگ بھگ تحریک پر بحث کی مفتی ؟ جواب:۔میں اگر کراچی میں ہوتا اور مجھے کابینہ کے اجلاس کی اطلاع نہ دی جاتی تو کا بینہ کا کو ئی با قاعدہ اجلاس نہیں ہو سکتا تھا لیکن میرا خیال ہے کہ بعض مواقع پر خواجہ ناظم الدین نے اپنے بہین رفقاء کو تحریک کے سلسلہ میں مشورے کے لیے بلایا تھا۔ان مواقع پر مجھے نہیں بلایا گیا۔۔۔سوائل :- جہانگیر پارک میں یہ تقریر کرنے سے پہلے کیا آپ نے خواجہ ناظم الدین سے کوئی گفتگو کی محتی ؟ جواب : - خواجہ صاحب نے مجھ سے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ متعدد لوگوں نے اس جلسے میں میری شرکت پر اعتراض کیا تھا۔سوال :۔کیا انہوں نے آپ کی متوقع تقریر کے متعلق کچھ کہا تھا ؟ جواب:۔انہوں نے تجویز کیا تھا کہ میں اگر جسے رہیں) تقر یہ نہ کہوں تو بہتر ہوگا۔سوال :۔آپ نے کیا کہا ؟ جواب:۔میں نے کہا کہ اب میرا تقریہ نہ کہ نامیرے لیے اُلجھن کا باعث ہوگا کیونکہ مقر کی حیثیت سے میرے نام کا پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے لیکن میں اگر اس پوزیشن میں نہ ہوتا تو ضرور ان کی تجویز منظور کر لیتا اور وہاں نہ جاتا۔عدالت کے ایک سوال پر گواہ نے کہا کہ وہ ایک جلسہ عام تھا۔مسٹر نذیر احمد کے سوالات دربارہ شروع ہونے پر انہوں نے کہا کہ یہ پہلا جلسہ عام نہیں تھا جو ان کے فرقے نے کیا تھا۔ربوہ اور دوسرے مقامات پر متعد د عام جلسے ہوئے تھے۔