تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 33
۳۳ احمدیہ کمرشل کالج احمدیہ کمرشل کا لج کشمیری بازار راولپنڈی کے پر و پر انٹر قاضی بیشتر احمد صاحب بھٹی تحریر فرماتے ہیں نہ د ہمارے مکان احمدیہ کمرشل کالج کی طرف وہ جلوس شام کے بعد پہنچ گیا جو کشمیری بازار رستہ روڈ پر واقع ہے اور کو توالی کے متصل اور جس کے ساتھ ہی احاطہ تحصیل میں اسے۔آر پی کا ہیڈ آفس بھی تھا) ہم گھر کے سب افراد عورتیں بچے ابھی مغرب کی نماز سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ وہ جلوس آپہنچا اور آتے ہی کالج کے دروازے اینٹ پتھر سے توڑنے شروع کر دیئے جلوس آنے سے تھوڑا وقت پہلے ہی میں نے اپنے لڑکے حمید احمد کو کو توالی بھیجا کہ جلدی سے چوڑی کریم دا دصاحب سٹی انسپکٹر کو اطلاع کر دو کہ جلوس اس طرف آرہا ہے۔وہ گیا لیکن باوجود اس کے تین چار بار بڑے اصرار اور تاکید سے عرض کرنے کے انہوں نے ایک سب انسپکڑا اور دو پولیس مین اس وقت بھیجے جب جیلوس دروازے وغیرہ توڑ پھوڑ کر اندر داخل ہو چکا تھا اور (ٹائپ مشینوں ، پہنچ کرسیوں اور میز وغیرہ کو توڑ کر مع ضروری ریکارڈ اور ٹائپ مشینوں کے پرزہ جات کے ، قرآن مجید مترجم رمولانا احمد رضا خانصاحب بریلوی) مع تفسیر حاشیہ کی وہ کا بیاں سڑک پر نال کے پاس رکھ کر آگ لگادی تھی ، جو ایک غیر احمد می عالم جناب اعجاز ولی صاحب نے برائے درستی کا پیاں مجھے دی تھیں جن میں سے کچھ کی تصحیح باقی تھی باقی مکمل ہو چکی تھیں۔خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی کا نشان اس وقت یہ ظاہر ہوا کہ جس کمرے کے تینوں دروازے توڑ کر جلوس والے اندر داخل ہو گئے تھے اس کے ساتھ والے کمرہ ہی میں ہم سب اپنے بال بچوں سمیت اکٹھے کھڑے سب کچھ توڑ پھوڑ کی آوازیں سن رہے تھے اور درمیان میں صرف ایک دروازہ ہی تھا جس کی ایک ہی چٹخنی لگ رہی تھی۔اگر کوئی ان میں سے اس دروانہ ہ کو ایک ٹھو کر ہی مار دیتا تو دروازہ کھٹ سے کھل جاتا اور وہ اندر داخل ہو جاتے لیکن اس خدائے ذوالجلال والاکرام نے ہوا اپنے عاجز بندوں کی عاجزانہ پکار کو سُننے اور قبول فرمانے والا ہے عین وقت پر گویا دوڑ کر ہماری مدد فرمائی اورسان بلوائیوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ کالج کے کمرے کے اندر دس منٹ سے زیادہ نہ ٹھہر سکے اور جلدی نه وقات ۳۱ دسمبر ۶۱۹۸۲