تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 387 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 387

۳۸۶ لیکن ہمارے نزدیک اس کا اطلاق اصلی طور پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوتا ہے۔لیکن عملی طور پر مرزا غلام احمد صاحب پر بھی ہوتا ہے سوال : - ازراہ کرم ۲۱ اگست نام کے افضل کے صفحہ نمبر ے کے کالم نمبرا کہ ملاحظہ فرمایئے جہاں آپ نے اپنی جماعت اور غیر احمدیوں میں فرق بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ : ورنہ حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ اُن کا اسلام اور ہے اور ہما ما اور ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور ہمارا حج اور ہے اور اُن کا حج اورہ۔اسی طرح اُن سے ہر بات میں اختلاف ہے کہ کیا یہ صحیح ہے ؟ جواب:۔اس وقت جب یہ عبارت، شائع ہوئی تھی میرا کوئی ڈائر می نویس نہیں تھا اس لیے یکی یقین سے نہیں کہ سکتاکہ میری بات کو صحیح طور پر رپورٹ کیا گیا ہے یا نہیں۔تاہم اس کا مجازی رنگ میں مطلب لینا چاہیئے۔میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم زیادہ خلوص سے عمل کرتے ہیں۔سوال : کیا آپ نے انوار خلافت کے صفحہ ۹۳ یہ کہا ہے کہ : " اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے اس نیچے اُن کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیئے۔لیکن اگر کسی غیر احمدی چھوٹا بچہ مر جائے تو اُس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ توسیح موعود کا ملکفر نہیں۔میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا ہے جواب:۔ہاں۔لیکن یہ بات میں نے اس لیے کہی معنی کہ غیر احمدی علماء نے یہ فتوی دیا تھا کہ احمدیوں کے بچوں کو بھی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔واقعہ یہ ہے کہ احمدی عورتوں اور بچوں کی نعشیں قبروں سے اکھاڑ کر باہر پھینکی گئیں۔چونکہ اُن کا فتقو می اب تک قائم ہے اس لیے میرا فتوی بھی قائم ہے۔البتہ اب ہمیں بانی سلسلہ کا ایک فتوی ملا ہے جس کے مطابق ممکن ہے کہ غور و خوض کے بعد پہلے فتوی میں ترمیم کر دی جائے۔سوال: کیا یہ صحیح ہے کہ مرند اعلام احد صاحب نے حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۶۳ پر لکھا ہے کہ :۔علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا۔وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا یہ اول