تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 350 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 350

۳۴۹ یعنی اسلام اور پاکستان دونوں کی عزت اور ایک دونوں کی ذات احمدیوں سے خطرہ میں ہے۔ظاہر ہے کہ ان تقریر وں کے نتیجہ میں عوام الناس میں اتنا اشتعال پیدا ہو جانا ضروری تھا کہ وہ اپنی دونوں پیاری چیزوں کے بچانے کے لیے اس دشمن کو مٹا دیتے جس کے ہاتھوں سے ان دونوں چیزوں کو خطرہ بتایا جاتا تھا ضرورت صرف اس بات کی تھی کہ انڈر گراؤنڈ طور پر کچھ ایسے لوگ بھی مقرر کیے جاتے جو اس طوفان کو ایک خاص انتظام کے ماتحت اور ایک خاص لائن پر چلا دیتے جب طبائع میں اشتعال پیدا ہو جائے تو وہ لیڈر کی اطاعت کے لیے پوری طرح آمادہ ہو جاتے ہیں اس طرح تنظیم کے لیے بستہ کھول دیا گیا تھا ان لوگوںکو یہ اتفاقی سہولت میسر آگئی کہ پنجاب کے صوبہ کی حکومت دانستہ یا نادانستہ ایسے طریق عمل کو اختیار کرنے لگی جو دنیا کی کسی مہذب حکومت میں بھی استعمال نہیں کیا جاتا اور جس کا ذکر ہم اور یہ کہ آئے ہیں اس دوران میں بدقسمتی سے پاکستان کی مرکزی حکومت میں ایک ایسا وز یر اعظم آگیا جو منہ ہی جوش رکھتا تھا اور علما کا حد سے زیادہ احترام اس کے دل میں تھا اور انتہا درجہ کا سادہ اور طبیعت کا شریف تھا اتفاقی طور پر کچھ علماء اس کے پاس پہنچے اور اس کے ادب اور احترام کو دیکھ کر انہوں نے محسوس کیا کہ کامیابی کا ایک اور راستہ بھی ان کے سامنے کھل سکتا ہے۔ہمیں ان فسادات کے دلوں میں جو کچھ معلومات حاصل ہوئیں یا ہوسکتی تھیں۔خواہ مخالفوں کے کیمپ سے یا اپنے وفود سے جو کہ پاکستان کے وزیر اعظم سے ملے یہی معلوم ہو سکتا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم سادہ اور شریف آدمی تھے ہمیں کبھی بھی اُن کے متعلق ریسوس نہیں ہوا کہ وہ شرارت یا فساد کے لیے کوئی کام کرتے تھے مگر علماء کا ادب اور احترام اور ان کی سادگی اور دوسری طرف علماء کا فساد پر آمادہ ہو جاتا ان کو دھکیل کر ایسے مقام پر لے گیا۔جبکہ وہ نادانستہ طور پر اس فساد کو آگ دینے والے بن گئے۔پاکستان میں اس وزیر اعظم کے آنے سے پہلے علماء کے دل میں یہ طمع کبھی نہیں پیدا ہوا کہ آئندہ حکومت اُن سے ڈر کر ان کی پالیسیاں چلائے گی لیکن اس وزیر اعظم کے زمانہ میں یہ طمع علماء کے دل میں پیدا ہوگیا۔مولانا مودودی جو کہ پہلے کانگرسی تھے پھر مند و نوازہ تھے اور پاکستان بننے کے وقت پاکستان کے مخالف تھے۔آخری دن تک ان کی پاکستان رے حضرت مصلح موعود نے یہاں حاشیہ میں ہدایت دی کہ ہر مناسب حوالہ جات