تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 349 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 349

یہ ثابت ہو جا کہ ایک خاص ذہنیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک خاص سکیم کے ماتحت بو فتنہ و فساد کو پیدا کرنے میں محد ہو سکتی ہے۔کچھ الفاظ بولے جاتے تھے جن میں رائج الوقت قانون سے بچنے کی بھی کوشش کی جاتی تھی تو یقینا الفاظ خواہ کچھ ہی ہوں اس بات کو ماننا پڑے گا کہ فساد کے لیے لوگوں تو تیار کیا گیا اور متواتر تیار کیاگیا اور پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ عین فساد کے دلوں میں جلسوں کی حد سے نکل کر ایک مقرر تنظیم کے ماتحت سارا فساد آگیا تو ما نا پڑتا ہے کہ جولوگ جلسوں میں محتاط الفاظ استعمال کرتے بھی تھے اپنی خلوت میں دوسرے کام کرتے تھے۔اگر ایسا نہیں تھا تو اچانک شورش ایک انتظام کے ماتحت کس طرح آگئی اور اس کو باقاعدہ لیڈر کہاں سے مل گئے آخر وہ کیا بات تھی کہ جلسوں میں تو محض لوگوں کو ختم نبوت کی اہمیت بتائی جاتی تھی لیکن فسادات کے شروع ہوتے ہی جیتے لاہور کی طرف بڑھنے شروع ہوئے۔ایک شخص نے آکر مسجد وزیر خان میں راہنمائی اور رامیری سنبھال لی۔اور لوگ اس کا حکم ماننے لگ گئے اور دوسروں نے دوسرے علاقوں میں باگ ڈور سنبھال لی جس دن شورش کرنی ہوتی تھی مختلف طرف سے مجھے نکلتے تھے لیکن شورش ایک یا دو مقامات پر کی جاتی تھی جب گرفتاریاں ہوتی تھیں تو تلورش پسند لیڈر وہاں سے بھاگتے تھے اور ان کو پناہ دینے کے لیے پہلے سے جگہیں موجود ہوتی تھیں۔حکومت کو بیکار بنانے کے لیے ریلوں اور لاریوں پر خصوصیت کے ساتھ حملے کیے جاتے تھے۔تمام بڑے شہروں میں گاؤں کی طرف سے جتھے آتے تھے جیسے لائلپور میں گو جرہ اور سمندری وغیرہ سے اور سرگودہا میں میانوالی اور سکیسر کے علاقوں سے اور لاہور میں راولپنڈی، " لائیوں اور دوسرے شہروں سے گویا لاہور میں تو لالپور، راولپنڈی، سرگودہا اور ملتان کے شہروں کو استعمال کیا جارہا تھا اور لائلپور۔سرگودہا ، راولپنڈی ملتان وغیرہ میں اردگرد کے دیہات کے لوگوں کو ستعمال کیا جاتا تھا۔کیا یہ بات بغیرکی تنظیم کے ہوسکتی تھی اور کیا تنظیم بغیر کسی نظم کے ہوسکتی تھی۔میں یہ حالات صاف بتاتے ہیں کہ تقریروں میں کچھ اور کہا جاتا تھا گو جوش کی حالت میں وہ بھی اصل حقیقت کی غمازہ ہی کر جاتی تھیں لیکن پرائیویٹ طور پر اور رنگ میں تیاری کی جارہی تھی۔پس منادات کی اصل ذمہ دار جماعت اسلامی۔جماعت احرار اور مجلس عمل تھی۔ان کے کارکنوں نے متواترہ لوگوں میں یہ جوش پیدا کیا کہ احمدی اسلام کو نباہ کر رہے ہیں۔پاکستان کے غدار ہیں۔غیر حکومتوں کے ایجنٹ ہیں گویا دہ دو ہی چیزیں جو پاکستانی مسلمانوں کو پیاری ہوسکتی ہیں۔