تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 303
٢٠٢ نظر ثانی فرماتے اور تصحیح ترمیم اور اضافہ کے بعد اسے دوبارہ ٹائپ کیا جاتا تھا۔یہ کام رات گئے تک - ہوارہ بنا تھا۔تقریبا دس روز تک یا زیادہ ہم مسیح سے شام تک کام کرتے رہتے تھے ہم تینوں نے تمام ٹائپ کا کام ہاتھ میں لے لیا۔مسودے بنتے رہے اور ٹائپ ہوتے رہے۔مگر جو بیان صدرہ انجمین احمدیہ ربوہ کی طرف سے دائر ہونا تھا وہ میرے حوالے کیا گیا اور میں نے اُسے بہت ہی احتیاط سے ٹائپ کیا اور وہی داخل عدالت کیا گیا۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب در دوا اور شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت لاہور نے میری بہت تعریف کی اور میرے کام کو بہت پسند فرمایا۔اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے مجھے یہ سعادت عطا کی اور مجھے ان بزرگوں کی دعاؤں میں شامل کیا۔محترم شیخ صاحب نے مجھ سے کئی مرتبہ ٹائپ کا معاوضہ لینے کے لیے اصرار فرمایا لیکن میں نے قطعی انکار کر دیا کہ یہ لسلہ کا مبارک کام تھا اور اس کے ثواب میں حصہ دار ہونا میرے نزدیک ایک عظیم سعادت منفی داشه حضرت سیدنا المصلح الموعود کی خدمت اقدس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے لكها۔بسم الله الرحمن الرحیم سيدنا ! محمدة وتصلى على سوالب الكريم السلام علیکم درحمة الله وبركاته آج شیخ بشیر احمد صاحب کا خط لاہور سے آیا ہے کہ کام کی سہولت کے لیے مختلف شعبوں کے انچار ج نامزد ہو جانے چاہئیں تا ذمہ داری کا زیادہ احساس ہو اور باہم تعاون بھی رہے۔انتظام تو پہلے سے موجود ہے لیکن اگر حضور پسند فرماویں تو کیا نہ یادہ تعین کیا تقد مندرجہ ذیل تنظیم جاری کردی جائے ؟ ه تحریری بیان مورخه ۳ جولائی ۱۹۹