تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 299 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 299

۲۹۸ شدید اختلاف عقائد رکھتے ہوئے اس منفی کہام کے لیے منتظم ہونا قبول کر لیا اور وقت آنے پر اس کمیٹی کے روبرو پیش ہونے لگے۔مولانا محمد علم الدین سالک بڑی سختی سے صنفی عقائد کے پابند تھے اور عقائداً احمدیوں سے شدید اختلاف رکھتے تھے اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں تھی۔ایک دن ایک مولوی صاحب جو اتفاق سے دیو بندی بھی تھے۔مولانا کے پاس تشریف لے گئے اور درخواست کی کہ انکوائری کمیٹی کے ہاتھوں احمدیوں کو غیر مسلم قرار ولانے کے لیے وہ اس کیٹی کے روبہ و خود پیش ہوں اور اپنے دوسرے رفقاء علماء کو بھی ایسا کرنے کے لیے کہیں بعد میں مولانا نے جو کچھ بتایا اس کے مطابق ان مولوی صاحب اور مولانا کے درمیان حسب ذیل گفتگو ہوئی۔مولانا علم الدین سالک مرحوم۔ہمیں آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہوں۔لیکن آپ یہ فرمائیں کہ آپ کی اور میری کوشش سے اگر احمدی خارج از اسلام قرار دے دیئے جائیں تو کیا تمام عالم اسلام کی تطہیر ہو جائے گی اس کے بعد کوئی کافر عنصر مسلمانوں میں باقی تو نہیں رہ جائے گا۔غیر ممالک میں احمدی تبلیغی مشنوں کے بدلے کیا انتظام ہوگا۔مولوی صاحب نہیں۔یہ تو ہماری ابتداء ہے انشاء اللہ رفتہ رفتہ ہم سب کا فر عناصر کو مسلمانوں سے خارج کرالیں گے۔پہلے احمدیوں سے ٹیسٹ لیں۔دوسروں کی پھر سوچیں گے۔مولا نا علم الدین سالک مرحوم شیعوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؛ کیا آپ ان کو مسلمانوں میں شامل رہنے دیں گے ؟ مولوی صاحب۔ہم سمجھتے ہیں کہ احمد می لوگ ختم نبوت کو نہیں مانتے۔مگر وہ بانی جماعت احمدیہ کو امتی نبی اور تابع شریعت محمدی بنا کر اپنے حق میں کچھ منطقی صورت پیدا کر لیتے ہیں۔شیعہ فرقہ امام کو نبی سے بڑا ماننا ہے۔اور وہ امام کی آمد کا منتظر ہے اس سے حضور سرور کائنات کی دوہری توہین ہوتی ہے۔یعنی اس کے عقیدہ کے مطابق امام ضرور آئے گا اور امام میں سے بڑا ہو گا۔چنانچہ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے محض اس بنا پر صرف شیعہ فرقہ کو منکر ختم نبوت قرار دے کر کا فرگردا نا ہے۔شیعوں کے بعد اہل حدیث کا نمبر آتا ہے یہ فرقہ حضور سرور کائنات کے مقام کو گھٹاتا اور قبروں کی عزت سے منع کرتا ہے۔ان قبروں سے یہ سہو ہے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی چاہیئے ملاحظہ ہو آپ کی کتاب تفہیمات الہلیہ جلد ۲ مت کیڈ علی شاہ دی الله جلد آبا ۱۹۶۷ء