تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 292
۲۹۰ دو فرتوں کے درمیان فرقہ وارانہ اشتعال پھیلاکر پاکستان کو ایک نہ سمجھنے والی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔بعض دوسری شخصیات کے تاثرات پاکستان کے ایک معروف اہل قلم جناب ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے لکھا۔جماعت احمدیہ کے موجودہ امام جناب میاں محمود احمد صاحب غیر معمولی فہم و فراست اور علم و تدبر کے مالک ہیں۔نزاکت وقت کو محسوس کرتے ہوئے آج سے ایک ہفتہ پہلے رجون ۱۹۵۳د کے آخر میں) آپ نے ایک طویل بیان اخبارات کے حوالے کیا جس میں اعلان فرمایا : - اول : کہ ہم مسلمان ہیں۔دیگر مسلمانوں سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں۔ہمارا رسول ایک کتاب ایک۔قبلہ ایک۔تمدن ایک۔روایات ایک اور سب کچھ ایک۔یہ ایک نہایت مبارک اقدام ہے۔اللہ کرے کہ احمدی و غیر احمدی کے مصنوعی اختلافات ختم ہو جائیں اور ہم سب مل کر پاکستان کے استحکام اور قرآنی اقدار کے احیاء کے لیے کام کریں۔گزشتہ ستر برس میں احمدی کو غیر احمدی سے جدا کرنے کے لیے کئی ہزار صفحات میپرد قلم ہوئے اور انہیں ملانے کے لیے شاید ایک لفظ بھی کسی زبان سے نہ نکلا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے جنازے اور نمازیں ایک دوسرے سے الگ ہو گئیں۔رشتے کٹ گئے اور کفر و اسلام کے پہاڑ درمیان میں حائل ہو گئے۔جناب مرزا میاں محمود احمد صاحب کا یہ بیان اس لحاظ سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ مصالحت کی طرف یہ پہلا جرات مندانہ قدم ہے یہ لے ۱۹۵۳ء کی احراری تحریک کے سرگرم لیڈر اور اخبار زمیندار کے ایڈیٹر مولانا اختر علی خاں صاحب نے تحقیقاتی عدالت میں بیان دیا کہ : - احمدیوں نے۔۔۔۔۔۔۔اپنے تحریری بیان میں جو اعلانات کیسے ہیں اور جنہیں مٹی 1923ء میں جس طرح شائع کیا گیا۔ان سے تنازعہ ختم ہو جاتا ہے اور احمدیوں راه حرف محرمانه مؤلفہ ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب بر تن ص ۵٫۱۴ اسن اشاعت ۱۹۵۴ء به ابهتمام شیخ نیاز احمد یہ نر و پیشر علی پرنٹنگ پریس اسپتال روڈ لاہور۔