تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 280
انه سید زین العابدین ولی اللہ شاہ ناظر دعوت و تبلیغ جماعت احمدیہ زیوه تخدمت انسپکٹر جنرل صاحب پولیس۔پنجاب۔لاہور جناب عالی مورخه ما را بپریل ۱۹۵۳ سول می گرٹ کی آج کی اشاعت کے صفہ ، پر میں نے گورنمنٹ کا یہ اعلامیہ پڑھا ہے کہ جماعت احمدیہ کے سربراہ نے جو خطبہ جمعہ دیا وہ نور آرٹ پر لیس راولپنڈی میں شائع ہوا اور گورنمنٹ نے اسے بحق سرکاره منبطہ کہ لیا ہے۔اس سلسلہ میں ہیں جناب کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ میں نے متذکرہ بالا حظہ چھپوانے کیلئے راولپنڈی ضرور بھجوایا تھا لیکن اس کی چھپوائی مکمل ہونے اور اس کی اشاعت تھالیکن کی سے قبل جماعت احمدیہ کے سربراہ کو گورنمنٹ پنجاب کی طرف سے سیفٹی ایکٹ کے ماتحت ایک نوٹس موصول ہوا۔چنانچہ مجھے فوراً ہدایت دی گئی کہ میں منتذ کرہ صدر خطبہ کی چھپوائی اور اشاعت کو فی الفور روک دوں۔بنا بریں میں نے نور آرٹ پر لیس راولپنڈی کے مینجر کھر ایکسپریس تار کے ذریعہ ہدایت کی کہ متذکرہ خطبہ کی چھپوائی اور اشاعت فوراً روک دی جائے۔مینجرمانہ کور کو میرا تاره به وقت مل گیا اور اس نے چھپوائی کا کام تکمیل سے قبل ہی روک دیا۔پولیس، نور آرٹ پولیس میں اس تار کے ملنے کے بعد پہنچی جو مینجر کر دیا گیا تھا۔اس طرح مذکورہ خطبہ کی اشاعت ہوئی ہی نہیں اور جزوی طور پر جتنا حصہ چھپ چکا تھا اس کی مطبوعہ کاپیاں پولیس لے گئی۔ان حالات میں یہ امر نہایت درجہ قابل افسوس ہے کہ مذکورہ حکمنامہ میں واقعات کو صحیح اور مکمل طورسہ یہ بیان نہیں کیا گیا۔اور مجھے امام جماعت احمدیہ اور اپنی جماعت کے ممبران کے سامنے اس وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑی کہ میں نے واضح اور بر وقت ہدایات مل جانے کے باوجود متذکرہ خطبہ کی چھپوائی کیوں ہونے دی۔میں ہوں جناب کا ادنی خادم و ستحظ رحضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر دعوت و تبلیغ ربوه