تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 278
نظر بندی سے رہا ہو کہ جب میں ربوہ آیا تو مغرب کی نماز کے بعد حضور نے بیت المبارک ہیں جب مجھے دیکھا تو شرت مصالحہ بخشا اور میری خیر و عافیت کے متعلق دریافت فرماتے رہے بعد ازاں چند دن کے بعد مجھے قصر خلافت میں بلا کہ شرف ملاقات بخشا اور نظر بندی کے تفصیلی کو الف سنے میں نے عرض کیا کہ نریندی کے دوران لاہور میں صرف ایک دفعہ ایک آفسر میرے پاس آئے تھے۔انہوں نے چند منٹ میرے ساتھ باتیں کیں۔اور دریافت کیا کہ آپ چو ہدری ظفر اللہ خانصاحب سے کراچی ملنے جاتے تھے۔میں نے انہیں جواب دیا کہ جناب چوہدری صاحب سے سیدی واقعیت ایک بلے عرصہ سے ہے۔اور ملکی تقسیم سے پہلے قادیان میں ان کی سکنی اراضی کا۔نگران اور فروخت کنندہ رہا ہوں اور قادیان میں جب بھی چوہدری صاحب تشریف لاتے، میں اُن سے متعدد بار ملاقات کہ تا۔اب کراچی میں بھی۔میں جب جاتا ہوں تو اگر موقعہ ملے تو ان سے لاقات ہوتی ہے۔اس کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی کالے ر اپریل ۱۹۵۳ء کو حکومت پنجاب نے حضرت حضرت مصلح موعود کے ایک خطبہ جمعہ کی نسبی مسیح موعود کا یک اب جو تم ضبط کرلیا۔مینلب خطبہ جمعہ سے خطبہ مولوی سلطان احمدرضا پیر کوئی زود نویس نے مرتب کیا تھا اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے اُسے اور آرٹ پر لیس راولپنڈی میں چھپوانے کے لیے بھجوایا تھا۔مگہ 9ار مارچ کے نوٹس کے پیش نظر ایک خصوصی تار کے ذریعہ اس کی چھپوائی اور اشاعت رکھ دی گئی تھی۔پریس میں یہ خبر دی گئی کہ گویا یہ خطبہ نور آرٹ پریس راولپنڈی سے چھپ کر شائع ہو چکا تھا حالانکہ یہ بالکل خلاف واقعہ بات تھی۔یہ تفصیلات نہیں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کے درج ذیل مراسلہ سے بھی ملتی ہیں جو آپ نے ا پریل ۱۹۵۳ء کو انسپکٹر جنرل صاحب پولیس پنجاب کے نام لکھا لے غیر مطبوعہ مکتوب جناب ملک محمد عبد اللہ صاحب ریٹائرڈ لیکچرار تعلیم الاسلام کا بج ربوہ مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۷۵ ء سابق قائد مال مجلس انصار اللہ مرکزہ یہ ربوہ) سے بعض قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مصلح موعود نے یہ خطبہ جمعہ ۲ یا ۱۳ مار ۱۹۵۳ء کو ارشاد فرمایا تھا