تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 269
۲۷ میرے زخموں پر لگا مرحم کہ میں یہ بجو نہ ہوں میری فریام دن کوشن بیکن ہوگیا زار و نترا تو آپ کی کیفیت کچھ اور ہی ہو گئی اور میں چپکے سے باہر چلا گیا اور حضور دیر تک اپنے رب سے راز و نیاز فرماتے رہے اور یہی میرا مقصد تھا۔اور اپنی دعاؤں ہی کے طفیل ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مدارت بن گئے جمعہ کا دن تھا اس دن میری انٹروگیشن (internation مخفی اور حضرت میاں صاحبان کی ڈایل تھی۔اس عاجز کی پردہ پوشی کے لیے اللہ تعالٰی نے یہ سامان فرمایا کہ اسی کا نہ میں میں میں آپ کو سنٹرل جیل سے بوسٹل جیل میں لایا گیا۔اس عاجہ کو بھی لایا گیا۔راستے میں حضور ہدایات دیتے رہے۔کہ کسی سے بھی فضول باتیں نہیں کرنی بلکہ کوشش کریں کہ کسی سے کوئی بات ہی نہ ہو۔نیند استغفار پر زور دیں۔گویا اپنے سے زیادہ میری فکر تھی۔* بوشل جیل پہنچے تو بھائی جان رثاقب نزیز ) پہلے ہی پہنچ چکے تھے دن رات کی دوڑ دھوپ نے ان کی صحت پر بھی بہت برا اثر ڈالا تھا۔ویسے لا ہور کی بندش کے باعث بھی کچھ کبیدہ خاطر تھے مگر خدا کے فضل سے حوصلہ بہت بلند تھا اور اپنے رب کے فضلوں پر یقین محکم چنانچہ دیر تک میرا بھی حوصلہ بڑھاتے رہے اور فرمایا با لکل فکر نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب ٹھیک ہوگا۔نیز نصیحت کی کہ اگر کوئی سوال کرے تو Orthodox) ہو۔اس کا جواب نہ دینا ممکن ہے کوئی ماہر نفسیات آج تم پر سوال کرے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔تھوڑی دیر کے بعد ایک تھانیدار صاحب میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے کہنے لگے کہ بھائی آپ کیوں گرفتار ہوئے ؟ میں نے عرض کیا کہ بس گرفتار کر لیا گیا۔اور کیوں ہوئے یہ تو آپ لوگ بہتر سمجھتے ہیں۔کہنے لگے مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے پاس ایک تحریہ تھی جسے تم نے پچھاڑ کر کھا لیا۔چونکہ اس میں جھوٹ کی ملاوٹ تھی میں نے فوراً اسے اصل واقعہ بیان کرکے عرض کیا کہ یہ اصل بات ہے نگر باقی آپ نے اپنی طرف سے ملایا ہے۔آپ لوگ کیوں اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر لوگوں کو سزائیں دلواتے ہیں۔اگر مجھے مزا ہو گئی تو آپ کو کیاٹے گا ، کچھ تو خدا کا خوف کہ و۔کہنے ے ہفت روزہ لاہور