تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 268 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 268

744 جیل میں اس مرد سجران کی صحت روز برور بہتر ہو رہی ہے۔میں نے ایک دن عرضن کیا کہ چونکہ میری گرفتاری اچانک اور بالکل غیر متوقع تھی اور میرے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتا تھا کہ کبھی میں بھی گرفتارہ ہو جاؤں گا اس لیے پہلے پہل میں بہت پریشان ہو گیا۔اور میری بھوک پیاس بالکل ختم ہوگئی۔لہذا ناشتہ بھی نہ کر پایا۔مارشل لاء حکام نے گو کھانا دیا بھی مگر ما سوائے کپ چائے کے میں کچھ نہ کھا سکا۔یہ سن کر حضور نے فرمایا۔جب مجھے گرفتار کیا گیا تو میں نے پہلے نہایت ہی اطمینان سے غسل کیا پھر سیر ہو کر ناشتہ کیا کیونکہ ایسے وقتوں میں مجھے خوب بھوک لگتی ہے۔اس کے بعد کپڑے تبدیل کیے نیز فرمایا خدا کے فضل سے میرے جو ہر بحران میں کھلتے ہیں۔اور میری اندرونی طاقتیں نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہیں ہر وقت خوش رہتے اور ہمیں خوش رکھنے کی کوشش فرماتے اور ہمارے ذہنوں میں یہ احساس پیدا کرتے رہتے کہ یہ آزمائش اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔اس میں کامیابی کے بعد ہم پہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات کی بے شمارہ بارشیں ہوں گی۔لہذا ہمیں استقلال کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ ان لمحات کو مسکراتے ہوئے گزارنا چاہیے۔اللہ اللہ کیا ہی پاکیزہ اور پیارا دل تھا۔جو ہر وقت سلسلہ پر ہر طرح قربان ہونے کے لیے مستعد رہتا تھا۔ایسا بھی نہیں کہ حضور پر نور جیل میں دعائیں نہیں کرتے تھے۔دعائیں کرتے تھے۔دعائیں تو وہ ہر سانس کرتے تھے مگر اس طرح کہ ان کی کسی حرکت سے یہ ظاہر نہ ہو کہ ان پر کسی قسم کی گھبراہٹ ہے دراصل آپ کے اپنے رب سے راز و نیانہ تنہائی میں ہوتے تھے۔میں نے بھی اسی غلط فہمی میں ایک دن آپ کو کرب سے دعا کی طرف راغب کرنے کے لیے عرض کیا حضور اگر اجازت دیں تو یہ عاجز آپ کو دریائے فرمایا ہاں ہاں چنانچہ میں نے دبانا شروع کیا پھر میں نے عرض کیا کہ حضور کچھ سناؤں بھی فرمایا ضرورت نا ہی چنانچہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ دعائیہ اشعار جو مجھے یاد تھے سنانے شروع کیے۔میں اشعار سناتا رہا۔اور حضور بڑے انہماک سے سنتے رہے اور ان کا اثہ اپنے دل و دماغ پر لیتے رہے اور ساتھ ساتھ دعائیں بھی فرماتے رہے۔زیادر ہے اس وقت ہمارے سوا ہمارے پاس اور کوئی نہ تھا جب میں استعارہ پڑھتے پڑھتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر پر پہنچا ہے