تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 267
۲۶۵ اس لیے ہمیں بشاشت کے ساتھ حالات کے تقاضوں کے مطابق ڈھل جانا چاہیئے غالباً اسی دن کو دوپہر سے حضرت اقدس کے گھر سے کھانا شروع ہو گیا۔جو اس قدیر ہوتا تھا ، کہ ہم سب سیر ہو کہ کھا لیتے تھے۔تو پھر بھی پہنچ جاتا تھا گویا کہ جیل میں بھی ہم لوگ حضرت مسیح موعود کے لنگر سے ہی کھاتے تھے )۔یہاں بھی ہماری دلجوئی مد نظر یہ ہی کھا نام تا تو آپ سارا کھانا میرے مہرد فرما دیتے اور فرماتے " ساقی صاحب سے تقسیم کریں اور خود میرے گھر سے آیا ہوا کھانا لے بیٹھتے کہ میں تو یہ کھاؤں گا ، جو نہایت ہی سادہ سا ہوتا تھا اور جس میں بعض اوقات صرف ڈبل روٹی کے چند ٹکڑے ہوتے میرے اصرار کے باوجود میرا وہ سادہ سا کھانا حضور خود تناول فرماتے اور ر تن باغ سے آیا ہوا کھانا ہم کھاتے الحمد للہ چنوں کے اس ناشتے کے بعد جیل سے ہم نے کچھ نہیں سایاری ممکن ہے کہ قارئین کے لیے یہ باتیں معمولی ہوں مگر مجھے نا چیز وحسّاس کے لیے جیل میں یہ اتنی بڑی تھی کہ میرے قلب و روح اس پر آج بھی اس روح پرفتوح کی عظمتوں کو دھراتے رہتے ہیں۔یہ وقت تھا جب ہر شخص رب نفسی رت نفسی با کے عالم میں تھا۔مگر حضور پر نور ہمارے لیے شفقتوں کا پہاڑ بن گئے۔اللہ تعالیٰ حضور کے درجات میں بیش بہا اضافہ فرمائے اور علی علیین میں اپنے قرب میں جگہ دے اور کروٹ کروٹ راحتیں نصیب کرے۔حضور پر نور اور حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب جب تک ہمارے پاس رہے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں اداس اور غمگین نہیں ہونے دیا اور ہمیں واقعات سنا سنا کہ ہمارے حوصلے بلند فرماتے کہ ہے گویا جیل میں بھی ہر روز مجلس علم د عرفان جمتی رہی۔ایک دن مجھے پریشان سا دیکھ کہ نہایت ہی بے تکلفی سے فرمانے لگے بشر ! تمہیں پانچ سال قید ہو گی یہ سن کر بہن نے بھی اُسی بے تکلفی سے عرض کیا کہ میاں صاحب! آپ خدا کے فضل سے خود بھی بزرگ ہیں پھر بزرگوں کی اور نا ر بھی ہیں۔میرے حق میں اس پاکیزہ منہ سے تو کلمہ خیر ارشاد فرمائیں فرمانے لگے میرا مطلب ہے Think Worst" جھیل میں میں نے آپ کو ایک لمحہ کے لیے بھی پریشان نہیں پایا۔بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا۔کہ